ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ کی بندش برقرار ہے، تاہم پروازیں متبادل ایئرپورٹس سے شروع کر دی گئی ہیں۔ سعودی ایئرلائن نے ریاض کی پروازیں جدہ سے چلانا شروع کر دی ہیں۔ فلائٹ شیڈول کے مطابق آج کراچی اور پشاور کے لیے ریاض کی چار پروازیں جدہ سے آپریٹ ہوں گی۔ دوسری جانب کراچی سے لاہور کی دو پروازوں پی کے 304 اور 305 میں تین گھنٹے تک تاخیر ہوئی ہے، جبکہ کراچی سے اسلام آباد کی دو پروازوں پی اے 200 اور 201 میں چار گھنٹے کی تاخیر ہے۔ کراچی سے ٹورنٹو کی پرواز پی کے 783 ساڑھے چھ گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوگی، جبکہ کابل سے اسلام آباد کی دو پروازیں سات گھنٹے تاخیر سے آپریٹ ہوں گی۔ اسلام آباد سے اسکردو کی چار پروازوں میں ساڑھے چار گھنٹے تک تاخیر ہے، جبکہ لاہور سے مسقط کی دو پروازوں میں چار گھنٹے تک تاخیر ریکارڈ کی گئی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حکام نے تصدیق کی کہ ایئرپورٹ 19 اکتوبر تک بند ہے اور دوبارہ کھلنے کی کوئی واضح تاریخ نہیں دی گئی۔ پابندیوں کے باعث ایئرلائنز خصوصی اجازت کے بغیر ریاض کے لیے باقاعدہ پروازیں نہیں چلا سکتیں۔ ایئرپورٹ نے یہ بھی کہا کہ اسے ہنگامی صورتحال میں متبادل ایئرپورٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق 10 اکتوبر کو ایک میزائل کنگ خالد ایئرپورٹ سے ٹکرایا، جس میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں مملکت پر سب سے مہلک حملہ تھا۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایئرپورٹ کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کم از کم ایک طیارہ تباہ ہوا، جبکہ ہفتے کے آخر میں ریاض میں متعدد بار فضائی حملے کے الرٹ جاری ہوئے۔
متعدد ایئرلائنز نے پروازیں معطل کر رکھی ہیں۔ قطر ایئرویز نے پیر کو 24 اکتوبر تک ریاض کی پروازیں معطل کر دیں اور جدہ کی پروازیں کم کر دیں، جبکہ اتحاد ایئرویز، بھارت کی آکاسا ایئر اور ایئر انڈیا نے بھی آپریشن محدود کیا ہے۔ سعودی عرب نے خطے میں حوثی حملوں کے باعث فضائی سفر متاثر ہونے کے بعد ریاض میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس، جسے صحرا کا ڈیووس کہا جاتا ہے، میں بالمشافہ شرکت کا انعقاد مؤخر کر دیا ہے۔
ریاض میں امریکی سفارتخانے کی 18 اکتوبر کی ایڈوائزری کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ معطل ہے، جبکہ جدہ اور دمام کے ایئرپورٹس تاخیر اور منسوخیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ مسافروں کو پرواز سے قبل ایئرلائنز سے شیڈول کی تصدیق کی ہدایت کی گئی ہے۔