روس کے آرکٹک خطے میں بڑے تیل کے ذخائر کی دریافت
ماسکو (صداۓ روس)
روسی توانائی کمپنی Gazprom Neft نے یامال جزیرہ نما میں ایک نئے تیل کے میدان کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے کمپنی نے گزشتہ تین دہائیوں میں اس خطے کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا ہے۔ کمپنی کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ میدان آرکٹک زون میں واقع Yamal Peninsula کے جنوبی حصے میں ایک وسیع تیل و گیس کلسٹر کا حصہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تین برس پر محیط تلاش اور سائنسی مطالعے — جن میں ٹو ڈی اور تھری ڈی سیسمک سروے، جیولوجیکل اور ہائیڈرو ڈائنامک ماڈلنگ شامل تھی — کے بعد یہ میدان دریافت ہوا۔ تقریباً 2.7 کلومیٹر گہرائی تک کھودے گئے جائزہ کنویں سے کم سلفر اور کم واسکوسٹی والا تیل، گیس اور کنڈینسیٹ کی تجارتی سطح پر پیداوار سامنے آئی۔ کمپنی کے مطابق اس میدان کے تخمینی جیولوجیکل ذخائر 55 ملین ٹن ہیں۔ اس نئے میدان کو ممتاز روسی ماہرِ ارضیات الیکسی کونتورَوِچ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، جنہیں روسی تیل و گیس جیولوجی اور آرگینک جیوکیمسٹری کے علمی مکتبِ فکر کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کمپنی نے مزید بتایا کہ میدان کی جیولوجیکل ساخت، پیداوار کی صلاحیت اور نکاسی کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے اضافی تحقیق جاری رکھی جائے گی۔
Gazprom Neft کے چیئرمین الیگزینڈر دیوکوف نے کہا کہ یہ دریافت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ روس کے قدرتی وسائل کی بنیاد ابھی مکمل طور پر دریافت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق آرکٹک زون اور مشرقی سائبیریا سمیت متعدد علاقوں میں بڑے اور انتہائی بڑے ہائیڈروکاربن ذخائر کی تلاش کے مواقع موجود ہیں۔ روسی معیار کے مطابق 30 سے 300 ملین ٹن قابلِ نکاسی ذخائر رکھنے والے میدان کو “بڑا” قرار دیا جاتا ہے، جبکہ یورپی تناظر میں اس حجم کی دریافت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ تقابلی طور پر پولینڈ میں حال ہی میں دریافت ہونے والا Wolin East میدان 22 ملین ٹن قابلِ نکاسی ذخائر کے ساتھ ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا گیا تھا۔