بحیرۂ اسود میں گیس پائپ لائنوں پر حملے کی اطلاعات ہیں، روسی صدر
ماسکو (صداۓ روس)
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس کو بحیرۂ اسود کے نیچے قائم گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ منصوبوں سے متعلق انٹیلیجنس معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے یہ بیان فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ صدر پوتن کے مطابق مبینہ سازش کا مقصد یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کچھ عناصر امن عمل کو پٹڑی سے اتارنے کے لیے اشتعال انگیزی کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے کسی مخصوص ملک یا فریق کا نام نہیں لیا اور کہا کہ معاملے پر تفصیلی گفتگو بند کمرہ اجلاس میں کی جائے گی۔
روسی صدر نے اپنی گفتگو میں بحیرۂ اسود کے راستے چلنے والی اہم گیس پائپ لائنوں TurkStream اور Blue Stream کا حوالہ دیا، جو روسی توانائی برآمدات کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بحیرۂ اسود میں توانائی اور عسکری تنصیبات پر حملوں کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں روسی حکام ماضی میں حساس انفراسٹرکچر کے خلاف ڈرون اور بحری ذرائع کے ممکنہ استعمال پر خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ زیرِ آب توانائی ڈھانچے پر سب سے نمایاں حملہ ستمبر 2022 میں بالٹک سمندر میں Nord Stream پائپ لائن دھماکوں کی صورت میں ہوا تھا، جس پر عالمی سطح پر مختلف اور متضاد دعوے کیے گئے۔