روس کا صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ

Russian Ambassador to the United Nations Vasily Nebenzya Russian Ambassador to the United Nations Vasily Nebenzya

روس کا صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ

ماسکو (صداۓ روس)
اقوامِ متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے کہا ہے کہ روس امریکا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔ انہوں نے یہ بیان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے وینزویلا سے متعلق اجلاس سے خطاب کے دوران دیا۔ واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ اس وقت امریکا میں موجود ہیں اور آج سے نیویارک میں ہیں، جس کے پیش نظر روسی قیادت امریکی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ ایک خودمختار ملک کے صدر اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ روسی مندوب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ روس وینزویلا کے خلاف امریکا کی جانب سے کی گئی فوجی جارحیت کی سخت اور دو ٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جو بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ نیبینزیا کے مطابق وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنا اور اس کارروائی کے دوران درجنوں وینزویلا اور کیوبا کے شہریوں کی ہلاکتیں، دنیا کی نظر میں قانون شکنی، امریکی فوجی بالادستی، انتشار اور بے قاعدگی کے اس دور کی واپسی کی علامت بن چکی ہیں، جس کے اثرات آج بھی دنیا کے درجنوں ممالک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے لاطینی امریکا میں اپنی نوآبادیاتی اور سامراجی پالیسی کو ایک نئی رفتار دی ہے، جو خطے کے امن اور خودمختاری کے لیے شدید خطرہ ہے۔ واضح رہے کہ وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے 3 جنوری کو اعلان کیا تھا کہ امریکا نے دارالحکومت کاراکاس میں شہری اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جنہیں انہوں نے کھلی فوجی جارحیت قرار دیا۔ اس کے بعد وینزویلا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پیر کے روز نیویارک کی ایک عدالت میں سماعت کے دوران صدر نکولس مادورو نے اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کیا، جبکہ عدالت نے اس مقدمے کی آئندہ سماعت 17 مارچ کو مقرر کر دی ہے۔

Advertisement