یوکرین کو جوہری ہتھیارکی فراہمی: فرانس اور برطانیہ کو نشانہ بناسکتے ہیں، روس

Dmitry Medvedev Dmitry Medvedev

یوکرین کو جوہری ہتھیارکی فراہمی: فرانس اور برطانیہ کو نشانہ بناسکتے ہیں، روس

ماسکو (صداۓ روس)
روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میڈویڈیف نے خبردار کیا ہے کہ اگر لندن اور پیرس یوکرین کو جوہری صلاحیت فراہم کرتے ہیں تو روس یوکرین کے ساتھ ساتھ فرانس اور برطانیہ میں اہداف پر حملوں کو “قانونی اور جائز” تصور کر سکتا ہے۔ انہوں نے سوشل پلیٹ فارم “Max” پر اپنے بیان میں روسی خارجہ انٹیلی جنس سروس روس کی خارجہ انٹیلی جنس سروس کی ان رپورٹس پر تبصرہ کیا جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے کیئف کو جوہری یا نام نہاد “ڈرٹی بم” سے متعلق معاونت پر غور کیا جا رہا ہے۔

میڈویڈیف کے مطابق ایسی کسی بھی پیش رفت سے صورتِ حال “بنیادی طور پر تبدیل” ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یوکرین کو جوہری صلاحیت دی گئی تو روس کو اپنے دفاع میں تمام ہتھیار استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں، جن میں نان اسٹریٹجک جوہری ہتھیار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر “فراہم کرنے والے ممالک” بھی جوہری تنازع میں شریک فریق تصور ہوں گے۔

Advertisement

قبل ازیں ایس وی آر نے الزام عائد کیا تھا کہ یورپی دارالحکومتوں کا خیال ہے کہ یوکرین کو “ونڈر وافے” طرز کی صلاحیت ملنے سے اس کی مذاکراتی پوزیشن بہتر ہو سکتی ہے۔ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مغربی ممالک ماضی میں روسی انٹیلی جنس کے اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ آزاد ذرائع سے ان الزامات کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔