گرین لینڈ پر ملکیت کا کوئی دعویٰ نہیں رکھتے، ماسکو کا واضح مؤقف
ماسکو (صداۓ روس)
ڈنمارک میں روس کے سفیر ولادیمیر باربین نے واضح کیا ہے کہ روس کا گرین لینڈ سے متعلق کوئی دعویٰ یا جارحانہ منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی جن میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں نہ لے سکا تو روس یا چین اس پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ روسی سفیر نے کہا کہ روس اپنے آرکٹک ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی قسم کے جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، نہ ہی وہ انہیں فوجی کارروائی کی دھمکی دیتا ہے، بلیک میل کرتا ہے یا ان کے علاقوں پر دعویٰ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو خطے میں استحکام اور پرامن بقائے باہمی کا حامی ہے۔ ولادیمیر باربین نے یاد دلایا کہ 14 جنوری کو واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے خود کہا تھا کہ اس وقت نہ روس اور نہ ہی چین گرین لینڈ کے لیے کوئی خطرہ ہیں۔ اس کے باوجود روسی سفیر کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک، جن میں ڈنمارک بھی شامل ہے، روس یا چین کے مبینہ خطرے کو جواز بنا کر آرکٹک خطے کو عسکری بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو کو آرکٹک، خصوصاً گرین لینڈ تک پھیلانا ایک تصادمانہ حکمت عملی کو فروغ دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی سلامتی کمزور ہوتی ہے اور فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 14 جنوری کو ڈنمارک کے وزیر خارجہ، گرین لینڈ کی اعلیٰ سفارتکار ویویان موٹزفیلڈ اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات ہوئی تھی۔ بعد ازاں راسموسن نے اعتراف کیا تھا کہ ڈنمارک، امریکہ کو گرین لینڈ کے الحاق کی خواہش ترک کرنے پر قائل نہیں کر سکا۔ فریقین نے گرین لینڈ کے مستقبل پر بات چیت کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، جبکہ 1951 میں امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت امریکہ نے جزیرے کو ممکنہ جارحیت سے بچانے کا عہد کیا تھا۔