روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر ‘جوابی’ حملے کیے، روسی وزارت دفاع
ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روسی شہری انفراسٹرکچر پر “دہشت گردانہ حملوں” کے جواب میں روسی افواج نے یوکرین کے دفاعی اور توانائی سے متعلق تنصیبات پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
وزارت دفاع کے بیان کے مطابق یہ “مرکوز حملہ” طویل فاصلے تک مار کرنے والے سمندری اور فضائی درست ہتھیاروں بشمول کنژال ہائپرسونک میزائلوں اور ڈرونز سے کیا گیا۔ حملوں کا ہدف یوکرینی افواج کے استعمال میں آنے والی توانائی اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر، ساتھ ہی ڈرونز کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات تھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ “حملے کے تمام مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔ تمام مقررہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔” گزشتہ 24 گھنٹوں میں روسی فضائی دفاعی نظام نے 168 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا۔
یوکرینی حکام نے توانائی انفراسٹرکچر پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ حملوں میں 400 سے زائد ڈرونز اور تقریباً 40 مختلف اقسام کے میزائل استعمال کیے گئے جن کا بنیادی ہدف ملک کا توانائی نظام تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ولہینیا، ایوانو فرانکووسک، لیویو اور ریونہ علاقوں میں جنریشن سہولیات اور سب سٹیشنز کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کیف اور خارکیف علاقوں میں بھی حملے ہوئے۔
یوکرین کی سٹیٹ پاور آپریٹر (یوکرینرگو) نے بتایا کہ مجموعی طور پر آٹھ علاقوں میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایمرجنسی بلیک آؤٹ نافذ کر دیے گئے۔ وزیراعظم ڈینس شمگال نے کہا کہ ہائی وولٹیج سب سٹیشنز اور 750 kV اور 330 kV ٹرانسمیشن لائنز کو بھی نقصان پہنچا ہے جو ملک کے پاور گرڈ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ حملوں میں مغربی یوکرین کے برسٹن اور ڈوبروٹویر تھرمل پاور پلانٹس بھی نشانہ بنے۔
یوکرین کی قابل تجدید توانائی ایسوسی ایشن کے سربراہ سٹینسلاو اگناتیف نے بتایا کہ روس نے پہلی بار مغربی یوکرین کے 750 kV سب سٹیشن کو نشانہ بنایا جو یورپ کا سب سے بڑا ہے اور علاقائی پاور گرڈ کا مرکزی حصہ ہے جو بیرون ملک سے بجلی کی درآمد سنبھالتا ہے۔
شمگال نے کہا کہ سسٹم کو مستحکم کرنے کے لیے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے یونٹس کو عارضی طور پر ان لوڈ کیا گیا ہے اور پولینڈ سے ایمرجنسی بجلی کی مدد طلب کی گئی ہے۔
یہ روسی حملوں کی نئی لہر بدھ کو یوکرینی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں روسی سرحدی علاقے بیلگوروڈ میں توانائی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا تھا جس سے بجلی اور حرارتی نظام معطل ہو گئے اور سکولوں اور نرسریوں کو متاثر کیا۔ اسی دن پڑوسی بریانسک علاقے میں حکام نے بتایا کہ یوکرینی افواج نے امریکی ساختہ HIMARS راکٹوں سے رہائشی عمارتوں پر حملہ کیا جس میں ایک خاتون زخمی ہوئی۔