برطانوی میڈیا نے صدر پوتن کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، روس کا الزام
ماسکو (صداۓ روس)
برطانیہ میں روسی سفارتخانے نے مقامی میڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے صدر ولادیمر پوتن کے یوکرین تنازع سے متعلق حالیہ بیان کو غلط انداز میں پیش کیا۔ سفارتخانے کے مطابق دی ڈیلی ٹیلی گراف سمیت بعض برطانوی اخبارات نے کرغزستان کے دورے کے دوران پوتن کے بیان میں “سنگین بگاڑ” پیدا کیا اور اسے برطانیہ کے سرکاری بیانیے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا کہ پوتن کو جھوٹا طور پر یہ کہتے ہوئے پیش کیا گیا کہ “روس اس وقت تک لڑتا رہے گا جب تک آخری یوکرینی ہلاک نہیں ہو جاتا۔” روسی سفارتخانے کے مطابق اصل بیان کا مفہوم اس کے بالکل برعکس تھا۔ سفارتخانے نے صدر پوتن کے اصل الفاظ بھی نقل کیے جن میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو کاپیانْسک کو یوکرینی کنٹرول میں تصور کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں، اور یہی وہ عناصر ہیں جو امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں اور یوکرینی نظام کے ساتھ مل کر جنگ کو لمبا کھینچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کی مسخ شدہ رپورٹنگ “جنگ کو مزید بھڑکانے کا باعث بنتی ہے اور مغربی حلقوں کے اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے جو آخری یوکرینی تک لڑنے پر آمادہ ہیں۔” امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتے ماسکو پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ واشنگٹن کے تیار کردہ نئے امن منصوبے پر روسی حکام سے بات چیت کریں گے۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق اس منصوبے میں یوکرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ڈونباس کے اُن علاقوں سے دستبردار ہو جو اب بھی اس کے قبضے میں ہیں، اپنی فوج کم کرے اور نیٹو میں شمولیت سے باز رہے۔ یوکرین کے یورپی حمایتی ان شرائط کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کییف کی نیٹو رکنیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر روسی فوج نے گزشتہ دو ہفتوں میں دو درجن سے زائد بستیاں اپنے کنٹرول میں لے لی ہیں جن میں کاپیانْسک بھی شامل ہے، جو خارکوف ریجن کا ایک اہم لاجسٹک مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یوکرین اب بھی دعویٰ کرتا ہے کہ یہ شہر اس کے قبضے میں ہے۔