ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یورپی کونسل کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف United States اور Israel کی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ Russia کو ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے روس کو معاشی اور اسٹریٹجک سطح پر فائدہ پہنچایا کیونکہ روس عالمی توانائی منڈی میں ایک بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے باعث خطے میں عدم استحکام بڑھا ہے جبکہ یورپی ممالک کو توانائی کے شعبے میں مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس روس کو توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی منڈی میں اپنی حیثیت مضبوط ہونے کا فائدہ مل رہا ہے۔
یورپی کونسل کے مطابق جنگ کے باعث عالمی توجہ بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ کی طرف منتقل ہو گئی ہے جس سے یوکرین تنازع کے معاملے میں بھی روس کو سفارتی سطح پر کچھ حد تک گنجائش حاصل ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی توانائی کی سیاست میں روس کا کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔