روس ایلون مسک کے اسٹارلنک کے مقابل سیٹلائٹ انٹرنیٹ نظام لانچ کرے گا
ماسکو (صداۓ روس)
روس کے خلائی ادارے روسکوسموس کے سربراہ دیمتری باکانوف نے اعلان کیا ہے کہ روس 2027 تک ایلون مسک کی کمپنی کے اسٹارلنک کے متبادل اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک لانچ کرے گا۔ ان کے مطابق یہ نظام کم مدار میں موجود سیکڑوں سیٹلائٹس کے ذریعے دنیا بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ دیمتری باکانوف نے روسی ٹیلی وژن چینل ون کو روس میں تیار کردہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹرمینل بھی دکھایا، جس کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے میں رابطہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ہارڈویئر کی سیریل پیداوار رواں سال کے اختتام سے قبل شروع کر دی جائے گی۔
روسکوسموس کے مطابق تین سو سے زائد سیٹلائٹس پر مشتمل یہ نظام، جسے ’’راسویت‘‘ یعنی سحر کا نام دیا گیا ہے، اگلے سال تک مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ باکانوف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کو انٹرنیٹ فراہم کرنا نہایت اہم ہے جہاں زمینی مواصلاتی نیٹ ورک دستیاب نہیں۔ اس سے قبل روسی پارلیمان کی اطلاعاتی پالیسی کمیٹی کے سربراہ سرگئی بوئارسکی نے بتایا تھا کہ کم زمینی مدار میں سیٹلائٹس پر مشتمل یہ منصوبہ امریکی اسٹارلنک نظام کے جواب کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ ماسکو میں قائم ایرو اسپیس کمپنی بیورو چودہ چالیس اس منصوبے کو تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد روس کے دور دراز علاقوں میں مواصلاتی سہولتوں میں نمایاں بہتری لانا ہے۔ روسی حکام کے مطابق مستقبل میں اس سروس تک اتحادی ممالک کو بھی رسائی دی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اسٹارلنک نظام یوکرین تنازع میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، جہاں اسے فوجی رابطوں، نگرانی اور ڈرون نظام کے لیے استعمال کیا گیا۔ روسی حکام متعدد بار اس ٹیکنالوجی کے عسکری استعمال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور روسی فوج اسٹارلنک سگنلز کو جام کرنے کے لیے الیکٹرانک جنگی صلاحیتیں بھی تیار کر چکی ہے۔