توانائی بحران: روس کیوبا کو انسانی امداد کے طور پر تیل بھیجے گا
ماسکو (صداۓ روس)
روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ کیوبا کو انسانی امداد کے طور پر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات بھیجے گا، کیونکہ جزیرہ نما شدید ایندھن بحران کا شکار ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے کیوبا کے روایتی تیل سپلائرز خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے پابندیاں سخت کر دی ہیں، جس نے وینزویلا سے تیل کی فراہمی روک دی ہے اور دیگر ممالک کو بھی کیوبا کو ایندھن فراہم کرنے پر ممکنہ ٹیرفز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی دھمکی دی ہے۔
روسی سفارت خانے نے ایزویسٹیا کے حوالے سے بتایا کہ آئندہ روزوں میں کیوبا کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات بطور انسانی امداد روانہ کیا جائے گا، اگرچہ ابھی تک اس کی مقدار کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ مدد جزیرے کے مشکلا ت توانائی کی صورتحال کو کچھ وقت کے لیے آسان بنا سکتی ہے، جہاں فی الحال فیول اسٹاکز تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ روس نے کیوبا میں موجود اپنے شہریوں کی واپسی کے انتظامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ Aeroflot اور کیوبا کے ہوائی حکام کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ وارادرو اور ہوانا سے ماسکو تک خصوصی واپسی پروازیں چلائی جا سکیں۔ علاوہ ازیں، روسی وزارت برائے اقتصادی ترقی نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ “ایندھن کی ہنگامی صورتحال” کی وجہ سے کیوبا کا سفر مؤخر کر دیں۔
کیوبا پہلے سے ہی توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے، جس پر امریکہ کی جاری پابندیوں نے مزید بھاری اثر ڈالا ہے۔ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگرز پریا نے ان اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ملک کو “توانائی کی مکمل بلاک” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو عالمی تجارتی اصولوں کی خلاف ورزی اور عوام کے لیے انتہائی مشکل حالات پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔