ماسکو (صداۓ روس)
روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے خبردار کیا ہے کہ روس کے خلاف درحقیقت ایک غیر اعلانیہ خفیہ جنگ جاری ہے جس میں 56 ممالک شامل ہیں اور یہ ممالک خفیہ کارروائیوں کے ذریعے روسی ریاست اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
منگل کے روز بیان دیتے ہوئے روس کے سابق وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا کہ دراصل پچاس سے زائد ممالک پر مشتمل ایک بڑا نظام روس کے خلاف سرگرم ہے۔ ان کے مطابق درست تعداد 56 ممالک کی ہے جو اپنی خفیہ ایجنسیوں کے تجربات اور طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے تخریب کاری اور دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے روس کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے خفیہ آپریشنز کا طریقہ کار انتہائی وسیع اور پیچیدہ ہے۔
سرگئی شوئیگو کے مطابق 2025 کے دوران روس میں دہشت گردی سے متعلق جرائم کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں یوکرین کی کارروائیاں ایک بڑی وجہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی آبادی کو معلوماتی جنگ کے ذریعے دور سے ہی ایسے اقدامات پر اکسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض افراد کو مالی لالچ یا نظریاتی پروپیگنڈے کے ذریعے کیف کے مفادات کے لیے کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سرگئی شوئیگو نے کہا کہ یوکرینی افواج روس کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہتھیاروں کے نظام، خاص طور پر بغیر پائلٹ نظاموں کی تیزی سے ترقی اور ان کے استعمال کی پیچیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ روس کا کوئی بھی خطہ مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو بھی روس کے لیے ایک نیا چیلنج قرار دیا اور سلامتی کے اداروں کو خبردار کیا کہ وہ انتہائی محتاط اور چوکس رہیں۔ ان کے بقول خطرات کو کم سمجھنا یا حفاظتی کمزوریوں کو نظر انداز کرنا کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔
روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) وقتاً فوقتاً یہ اطلاع دیتی رہی ہے کہ اس نے یوکرین کی جانب سے تخریب کاری اور مخصوص شخصیات کو نشانہ بنانے کی متعدد منصوبہ بند کارروائیوں کو ناکام بنایا ہے۔ بعض معاملات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ حملوں کی منصوبہ بندی اس طرح کی گئی تھی کہ کارروائی کرنے والا شخص خود بھی ہلاک ہو جائے۔
رپورٹس کے مطابق یوکرین کی خصوصی سروسز کمزور روسی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے آن لائن فراڈ کرنے والوں جیسے طریقے بھی استعمال کر رہی ہیں۔ اس طریقے کے تحت پہلے لوگوں سے رقم حاصل کی جاتی ہے اور پھر انہیں رقم واپس دلانے کے جھوٹے وعدوں کے بدلے مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔