روس اور امریکا کے درمیان حساس امور پر مذاکرات جمود کا شکار، ریابکوف

Russian Deputy Foreign Minister Sergey Ryabkov Russian Deputy Foreign Minister Sergey Ryabkov

روس اور امریکا کے درمیان حساس امور پر مذاکرات جمود کا شکار، ریابکوف

ماسکو (صداۓ روس)
روس اور امریکا کے درمیان باہمی تعلقات میں موجود حساس اور متنازع امور پر جاری بات چیت اس وقت جمود کا شکار ہے۔ یہ بات روس کے نائب وزیرِ خارجہ سرگئی ریابکوف نے خبر رساں ادارے تاس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ سرگئی ریابکوف کے مطابق امریکا کے ساتھ مجموعی تعلقات کی موجودہ کیفیت کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ’’جمود‘‘ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ تجزیہ خاص طور پر ان معاملات سے متعلق ہے جنہیں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں طویل عرصے سے ’’ایریٹنٹس‘‘ یا حساس نکات کے طور پر شناخت کیا جاتا رہا ہے۔ روسی نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس صورتحال سے کئی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکراتی فریم ورک میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی دو مذاکراتی دور تیسرے ممالک میں منعقد ہوئے تھے، جن میں روس کی جانب سے سفیر الیگزینڈر دارچییف نے قیادت کی تھی۔

ریابکوف نے مزید کہا کہ اب صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ مذاکرات سے قبل زیادہ گہری تیاری، تحقیق اور جائزہ لیا جائے، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ امریکی فریق کے پاس لچک کی کتنی گنجائش موجود ہے اور آیا آئندہ کسی ممکنہ معاہدے کی بنیاد بنتی بھی ہے یا نہیں۔ اسی وجہ سے مذاکرات کی سطح اب فطری طور پر ورکنگ لیول تک محدود ہو گئی ہے۔ تاہم روسی نائب وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ مذاکرات کی رفتار سست ہو گئی ہے، مگر بات چیت کا عمل مکمل طور پر رکا نہیں اور دونوں فریق رابطے میں بدستور موجود ہیں۔

Advertisement