ابوظہبی میں روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا آغاز
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور شروع ہو گیا ہے۔ اماراتی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ بات چیت عالمی سطح پر جاری کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پائیدار حل کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ مذاکرات ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس کے موقع پر ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے بعد بند کمروں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔
امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے دیرپا حل صرف مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ ان کے مطابق ابوظہبی خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کے لیے تعمیری سفارت کاری کی حمایت کرتا رہے گا۔
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اجلاس ایک نامعلوم مقام پر ہو رہا ہے اور میڈیا کو اس تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ سہ فریقی مذاکرات کا اعلان یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک روز قبل کیا تھا، جس کی بعد ازاں واشنگٹن اور ماسکو دونوں نے تصدیق کر دی۔
روسی وفد کی قیادت فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ ایڈمرل ایگور کوستییوکوف کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں دیگر اعلیٰ فوجی حکام بھی شامل ہیں۔ کریملن کے ترجمان کے مطابق روسی نمائندے سکیورٹی اور عسکری امور پر خصوصی توجہ دیں گے۔ یوکرین کی جانب سے قومی سلامتی کے سربراہ رستم عمروف، جنرل اسٹاف کے سربراہ آندرے گناتوف، مذاکرات کار ڈیوڈ اراخامیا، نائب وزیر خارجہ سرگئی کیسلیتسا اور زیلنسکی کے دفتر کے سربراہ کیریل بودانوف مذاکرات میں شریک ہیں۔
امریکی وفد کی نمائندگی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق اسٹیو وٹکوف کی روسی نمائندے کیریل دمترییف سے الگ ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں معاشی امور زیرِ بحث آئیں گے۔
تینوں فریقین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ علاقائی مسئلہ ہے، خاص طور پر یہ سوال کہ یوکرین ڈونباس کے کن علاقوں پر اپنے دعوے سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہوتا ہے۔ ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوروزیے کے علاقوں نے دو ہزار بائیس میں روس کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیا تھا، جبکہ اس سے قبل کریمیا بھی عوامی ریفرنڈم کے ذریعے روس میں شامل ہو چکا تھا۔