روس ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کے لیے تیار ہے، ماریا زاخارووا
ماسکو (صداۓ روس)
روس نے کہا ہے کہ وہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے باقی ذخائر کو اپنے ہاں منتقل کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ یہ بات روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بدھ کے روز ایک بریفنگ کے دوران کہی۔ ماریا زاخارووا نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ مذکورہ افزودہ یورینیم ایران کی ملکیت ہے اور اس کی موجودگی کسی بھی صورت ایران کی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ذمہ داریوں سے متصادم نہیں۔ ان کے مطابق تہران کو اس مواد پر مکمل حق حاصل ہے، بشمول یہ فیصلہ کرنے کے کہ آیا اسے ایرانی سرزمین سے منتقل کیا جائے یا نہیں اور کہاں برآمد کیا جائے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں پر اضافی فضائی دفاعی نظام تعینات کیے ہیں، جن میں پیٹریاٹ اور تھاڈ بیٹریاں شامل ہیں، جبکہ یو ایس ایس ابراہام لنکن کی قیادت میں بحری بیڑہ بحیرۂ عرب میں بھیجا گیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اگرچہ فوری فوجی کارروائی کا خطرہ کم ہوا ہے، تاہم امریکا ضرورت پڑنے پر ردِعمل کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی مطالبات میں ایران کی یورینیم افزودگی پر پابندیاں اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر قدغنیں شامل ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ کویتی اخبار الجریدہ نے پیر کے روز رپورٹ کیا تھا کہ تہران پر فوری امریکی حملے کے امکانات کم ہو گئے ہیں اور روس، ترکیہ اور قطر کی جانب سے کی جانے والی شدید ثالثی کے بعد سفارت کاری کو ایک نیا موقع ملا ہے۔ روس نے گزشتہ موسمِ گرما میں پہلی بار ایران سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت روس اس مواد کو لے جا کر دوبارہ پروسیس کرے اور بعد ازاں ایران کی جوہری تنصیبات کو واپس فراہم کرے۔ ماسکو نے اس تجویز سے ایران، امریکا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو بھی آگاہ کیا تھا، تاہم ایرانی حکام نے اس پر تاحال کوئی حتمی عوامی ردِعمل نہیں دیا۔ جنوری میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے روس ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔