امریکی آپریشن کے دوران وینزویلا میں روسی دفاعی نظام ریڈار سے منسلک نہ ہونے کا انکشاف
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
نیویارک ٹائمز کے مطابق بُک ایم۔ٹو اور ایس تین سو نظام غیر فعال حالت میں، کاراکاس میں امریکی کارروائی کے وقت تیاری نہ ہونے کے شواہد
یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنوری 2026 کے اوائل میں وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں امریکی فوجی آپریشن کے دوران وینزویلا کی سروس میں موجود بعض روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام، خصوصاً بُک ایم۔ٹو، نہ تو ریڈار سے منسلک تھے اور نہ ہی مکمل طور پر آپریشنل حالت میں موجود تھے۔ امریکی کارروائی کے آغاز میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں بُک نظام تعینات تھے، جن میں سے بعض نظام اس وقت تباہ ہوئے جب وہ ابھی تعیناتی کے مرحلے میں تھے، کیونکہ وینزویلا کی فوج اس کارروائی کے لیے تیار نہیں تھی۔ حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں روسی فضائی دفاعی نظاموں کو اسٹوریج سہولیات میں رکھا ہوا دکھایا گیا، جہاں لانچرز اور کمانڈ اینڈ اسٹاف گاڑی کو بھی تباہ شدہ حالت میں دیکھا گیا۔ رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت یہ نظام ریڈار سے منسلک نہیں تھے اور امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ کئی برسوں سے فعال بھی نہیں تھے۔
نیویارک ٹائمز نے چار موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مجموعی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کئی ماہ قبل دی گئی تنبیہات کے باوجود وینزویلا امریکی کارروائی کے لیے تیار نہیں تھا۔ رپورٹ میں آرمی کو بھی وینزویلا کے فضائی دفاع کی ناکامی کی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے، کیونکہ فوجی اہلکار اور انجینئرز ان نظاموں کی دیکھ بھال کے ذمہ دار تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ نظام ممکنہ طور پر اس لیے مرمت نہیں ہو سکے کہ روسی عملہ یوکرین کی جنگ میں مصروف تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وینزویلا نے خود روسی سازوسامان کو فعال رکھنے کی کوشش کی، تاہم تکنیکی مہارت اور اسپیئر پارٹس کی کمی کے باعث یہ کوششیں اکثر ناکام رہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر وینزویلا کی فوج کسی امریکی طیارے کو مار گراتی تو اس کے نتائج ملک کے لیے سنگین ہو سکتے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ وینزویلا نے روس سے پہلا فضائی دفاعی نظام ۲۰۰۹ میں اس وقت خریدا تھا جب ملک کے صدر ہوگو شاویز تھے، اور بعد ازاں روس نے وینزویلا کو ایس تین سو اور بُک ایم۔ٹو نظام فراہم کیے۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ مکمل کہانی نہیں کہ وینزویلا میں روسی فضائی دفاعی نظام ناکام ہو گئے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ یہ نظام ریڈار سے کیوں منسلک نہیں تھے، وینزویلا کی سکیورٹی فورسز نے اس صورتحال کو کیوں پیش نظر نہیں رکھا، یا پھر کیا یہ خاموشی دانستہ اختیار کی گئی تاکہ امریکی افواج کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔