روس کے بیلگوروڈ ریجن پر یوکرینی ڈرون حملہ، گورنر کی تصدیق
ماسکو (صداۓ روس)
روس کے سرحدی علاقے بیلگوروڈ ریجن پر یوکرین کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ علاقائی گورنر ویچیسلاو گلاڈکوف نے بدھ کے روز بتایا کہ حملوں کے نتیجے میں کم از کم چھ شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ گورنر کے مطابق مختلف مقامات پر ہونے والے ڈرون حملوں میں شہریوں کو چھروں اور دھماکوں کی لہروں سے چوٹیں آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رہائشی و تجارتی عمارتوں اور شہری گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ بیلگوروڈ، جو یوکرین کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے قریب واقع ہے، حالیہ عرصے میں توپ خانے اور ڈرون حملوں کی زد میں رہا ہے۔ گلاڈکوف کے بیان کے مطابق گزشتہ ہفتوں کے دوران شہر کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث بجلی اور حرارتی نظام میں تعطل دیکھنے میں آیا۔
روسی وزارتِ دفاع نے اپنی یومیہ رپورٹ میں کہا کہ بدھ کے روز تین ہائی مارز راکٹ، 14 گلائیڈ بم اور 458 فکسڈ وِنگ ڈرونز کو روکا گیا۔ بیان کے مطابق ڈرونز کی بڑی تعداد کو رات کے دوران تباہ کیا گیا، جبکہ وولگوگراد ریجن سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا۔ جنوبی روسی علاقے کی مقامی انتظامیہ نے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یوکرین نے سرحد پار حملوں میں شدت اس وقت بڑھائی ہے جب اس کے اپنے شہروں کو توانائی کے بحران اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ روسی کارروائیوں کا مقصد یوکرین کی اسلحہ سازی کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے تاکہ روسی شہری اہداف پر گہرے حملوں کو روکا جا سکے۔ اس سے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر محدود توانائی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر امن مذاکرات میں سہولت کے لیے طے پائی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو نے وعدے کے مطابق ایک ہفتے تک جنگ بندی کا احترام کیا۔