سائنسدانوں نے اندھیرے میں چمگادڑوں کی سمت شناسی کا راز دریافت کرلیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ کی بریسٹل یونیورسٹی کی قیادت میں ہونے والی ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ معمہ حل کر لیا گیا ہے کہ چمگادڑ مکمل اندھیرے اور پیچیدہ ماحول میں انتہائی درستگی کے ساتھ کیسے راستہ تلاش کرتی ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج 21 جنوری کو سائنسی ویب سائٹ سائنس ایکس میں شائع کیے گئے۔ محققین نے دریافت کیا کہ چمگادڑ راستہ تلاش کرنے کے لیے ایک تصور استعمال کرتی ہیں جسے “اکوسٹک فلو ویلاسٹی” کہا جاتا ہے۔ پرواز کے دوران چمگادڑیں آوازیں خارج کرتی ہیں، جو مختلف اشیا سے ٹکرا کر مختلف رفتار سے واپس آتی ہیں۔ آواز کے واپس آنے کی رفتار اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ شے کتنی دور ہے اور چمگادڑ خود کس رفتار سے پرواز کر رہی ہے۔ یہی صوتی بہاؤ چمگادڑوں کو نہ صرف سمت کا تعین کرنے بلکہ اپنی رفتار کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ایک تجربے کے دوران چمگادڑوں کو ایک خصوصی طور پر تیار کردہ راہداری میں پرواز کروائی گئی جس میں متحرک ریفلیکٹرز نصب تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جب ریفلیکٹرز کو چمگادڑوں کی پرواز کی سمت کے خلاف حرکت دی گئی تو صوتی بہاؤ کی رفتار بڑھ گئی، جس کے باعث چمگادڑوں نے اپنی رفتار نمایاں طور پر کم کر دی — بعض صورتوں میں رفتار میں 28 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس، جب ریفلیکٹرز کو پرواز کی سمت میں حرکت دی گئی تو چمگادڑوں کی رفتار میں اضافہ ہوا۔
یہ دریافت مستقبل میں ڈرونز اور خودکار گاڑیوں کے لیے نئے نیویگیشن سسٹمز کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جو پیچیدہ اور کم روشنی والے ماحول میں زیادہ مؤثر انداز میں راستہ تلاش کر سکیں گے۔ تحقیق کے مصنف ڈاکٹر شین ونزر کے مطابق ہم جانتے تھے کہ چمگادڑیں تیز پرواز کرتی ہیں، لیکن اس تجربے سے ہم نے ثابت کیا کہ ہم انہیں اس سے بھی زیادہ تیز پرواز پر مجبور کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ چمگادڑ اپنی رفتار اور سمت کے تعین کے لیے اکوسٹک فلو پر انحصار کرتی ہیں۔ اس سے قبل 10 نومبر 2025 کو بی بی سی سائنس فوکس نے رپورٹ کیا تھا کہ سائنسدان جانوروں کی زبان سمجھنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جہاں نئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت جانوروں کے رابطے، معلومات کے تبادلے اور جذبات کے اظہار کو سمجھنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔