چین میں سائبیرین شیروں کو تعطیلات کے بعد خصوصی ڈائٹ پر منتقل کردیا گیا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
چین کے شمال مشرقی علاقے میں واقع سائبیرین ٹائیگر پارک میں چینی نئے سال کی تعطیلات کے دوران خوراک میں غیر معمولی اضافے کے بعد تقریباً 200 سائبیرین شیروں کو خصوصی غذائی پروگرام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کی اطلاع 23 فروری کو چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے دی۔ رپورٹ کے مطابق ہیلونگ جیانگ صوبے میں تقریباً آٹھ لاکھ مربع میٹر رقبے پر قائم اس پارک میں شیروں کی صحت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے باری باری ’’انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ‘‘ یعنی وقفے وقفے سے خوراک روکنے کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ پارک انتظامیہ کے اعلامیے کے مطابق یکم فروری سے 31 مارچ تک روزانہ 11 شیروں کے باڑوں میں سے ایک کو ’’فاسٹنگ ڈے‘‘ کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے، جس دن متعلقہ شیروں کو گوشت کے ٹکڑے نہیں دیے جاتے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام شیروں کی آبادی کے سائنسی انتظام کا حصہ ہے، جس کا مقصد خوراک کے شیڈول کو بہتر بنانا اور بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کے دوران جانوروں کی صحت برقرار رکھنا ہے۔ اس نظام کے تحت سیاحوں کو خوراک دینے کے مناظر دیکھنے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق پروگرام میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔ پارک آنے والے افراد کو جانوروں کی صحت کے تحفظ کے لیے قواعد و ضوابط کی پابندی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب 20 جنوری کو برطانوی اخبار ڈیلی میل نے آسٹریا کی ایک گائے ’’ویرونیکا‘‘ کی خبر شائع کی، جسے اپنی پشت کھجانے کے لیے لکڑی کا استعمال سیکھنے کی صلاحیت کے باعث دنیا کی ذہین ترین گائے قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گائے اپنے خاندان کے افراد کی آوازیں بھی پہچان سکتی ہے۔