سلوواکیہ کی یوکرین کو بجلی کی فراہمی معطل کرنے کی دھمکی
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سلوواکیہ کے وزیراعظم Robert Fico نے اعلان کیا ہے کہ اگر کیف نے دروژبا آئل پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال نہ کی تو سلوواکیہ 23 فروری سے یوکرین کو بجلی کی فراہمی معطل کر دے گا۔ فیس بک پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر پیر تک تیل کی سپلائی دوبارہ شروع نہ ہوئی تو وہ قومی گرڈ آپریٹر SEPS کو یوکرین کو بجلی کی ترسیل روکنے کی ہدایت دیں گے۔ وزیراعظم کے مطابق جنوری 2026 میں یوکرین کے توانائی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے بجلی کی ضرورت گزشتہ پورے سال 2025 کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی ممالک Nord Stream گیس پائپ لائن کی تخریب کاری پر سخت ردِعمل نہیں دیتے تو سلوواکیہ بھی دوطرفہ تعلقات کو یک طرفہ فائدے کے طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ رابرٹ فیکو نے دعویٰ کیا کہ گیس سپلائی کی معطلی سے سلوواکیہ کو 50 کروڑ یورو کا نقصان ہوا، جبکہ تیل کی ٹرانزٹ بندش سے اس سے بھی زیادہ مالی اور لاجسٹک مشکلات پیدا ہوئیں۔ انہوں نے یوکرینی صدر Volodymyr Zelensky کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سلوواکیہ کو یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے فوجی قرضے میں شامل نہ ہونا درست فیصلہ ہے۔
ادھر صنعتی ذرائع کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ Ukrtransnafta نے یوکرین کے راستے سلوواکیہ اور ہنگری کو خام تیل کی ترسیل روک رکھی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق برودی اسٹیشن پر ہنگامی صورتحال ختم ہونے کے باوجود پمپنگ بحال نہیں ہو سکی۔ ہنگری کے وزیر خارجہ Peter Szijjarto نے الزام عائد کیا کہ یہ اقدام سیاسی دباؤ کے لیے کیا گیا۔
یورپی کمیشن نے بھی تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ہنگری اور سلوواکیہ نے کیف کو ڈیزل کی سپلائی روک دی، جبکہ European Union کے مجوزہ 90 ارب یورو پیکیج پر ہنگری نے اعتراض اٹھایا ہے۔