سوشل میڈیا نوجوانوں کی خوشی میں کمی کی بڑی وجہ قرار، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

Mobile Mobile

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

اقوامِ متحدہ کی حمایت سے جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی ممالک میں نوجوانوں کی خوشی اور ذہنی سکون میں کمی کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ بدھ کے روز جاری ہونے والی سالانہ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال مغربی معاشروں میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود میں تشویشناک کمی کی وضاحت کرنے والے اہم عوامل میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت کم از کم پندرہ مغربی ممالک میں نوجوانوں کی زندگی سے اطمینان اور خوشی کے احساس میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم یہ رجحان عالمی سطح پر یکساں نہیں پایا گیا کیونکہ دنیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی پر مشتمل خطوں میں نوجوانوں نے پہلے کے مقابلے میں زیادہ زندگی سے اطمینان ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ کے ایگزیکٹو خلاصے میں محققین جان ایف ہیلی ویل، رچرڈ لیئرڈ، جیفری ڈی سیکس، یان ایمانوئل ڈی نیو، لارا بی اکنن اور شن وانگ نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود میں تبدیلی کے اس رجحان کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہیں جو براعظموں کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں پیش کیے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض ممالک میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال اس صورتحال کی وضاحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

محققین کے مطابق انگریزی بولنے والی دنیا اور مغربی یورپ سے باہر کے خطوں میں سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے درمیان تعلق نسبتاً مثبت دیکھا گیا ہے اور یہ تعلق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لحاظ سے بھی بدلتا رہتا ہے۔

یہ رپورٹ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر نے گیلپ اور اقوامِ متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک کے اشتراک سے جاری کی ہے۔ رپورٹ میں مختلف ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار شامل کیے گئے ہیں جن میں پروگرام فار انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ اسیسمنٹ (پیسا) کے ڈیٹا اور امریکی سماجی ماہر نفسیات جوناتھن ہائٹ کی تحقیق بھی شامل ہے۔

نوجوانوں کی فلاح و بہبود میں کمی کے باوجود مجموعی خوشی کے عالمی درجہ بندی میں مغربی ممالک، خاص طور پر اسکینڈینیویا کے ممالک، نمایاں رہے۔ فن لینڈ مسلسل نویں سال دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا، جبکہ آئس لینڈ، ڈنمارک، کوسٹا ریکا، سویڈن اور ناروے بھی سرفہرست ممالک میں شامل رہے۔

اسی طرح نیدرلینڈز، اسرائیل اور سوئٹزرلینڈ بھی خوشی کے عالمی انڈیکس کے پہلے دس ممالک میں شامل ہیں۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ اور افریقی ممالک میں خوشی کے درجے سب سے کم ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں زندگی سے اطمینان کی سطح سب سے کم رہی، جبکہ زمبابوے، ملاوی، مصر، یمن اور لبنان بھی خوشی کے اعتبار سے سب سے نچلے دس ممالک میں شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال پر حکومتوں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ متعدد رپورٹس میں ان پلیٹ فارمز کو ہراسانی، جنسی استحصال اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ اسی تناظر میں آسٹریلیا نے گزشتہ سال دنیا میں پہلی مرتبہ 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی متعارف کرائی، جبکہ انڈونیشیا، فرانس اور یونان میں بھی اسی نوعیت کی پابندیوں پر غور جاری ہے۔