ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ نے غزہ میں مبینہ نسل کشی کے مقدمے کے سلسلے میں اسرائیل کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔ پریٹوریا کا مؤقف ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ اسرائیل نے 12 مارچ کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اپنا جوابی یادداشت نامہ (کاؤنٹر میموریل) جمع کرایا، جو اصل ڈیڈ لائن 28 جولائی 2025 کے چھ ماہ بعد پیش کیا گیا۔ عدالت نے ابتدائی طور پر اسرائیل کو اسی مدت کے اندر جنوبی افریقہ کے دلائل کا جواب دینے کا حکم دیا تھا، تاہم اسرائیل کی درخواست پر اسے دو مرتبہ توسیع دی گئی۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیریل رامافوسا کے دفتر نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ حکومت نے اسرائیلی جواب کا نوٹس لے لیا ہے اور اب یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا عدالت سے مزید تحریری جواب جمع کرانے کی اجازت طلب کی جائے یا مقدمے کو براہِ راست زبانی سماعت کے مرحلے میں داخل ہونے دیا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں فلسطینی مسلسل اسرائیلی حملوں کا سامنا کر رہے ہیں اور بمباری کے باعث انسانی جانوں کا نقصان بدستور جاری ہے۔ جنوبی افریقہ نے یہ مقدمہ دسمبر 2023 میں دائر کیا تھا، جب 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں وسیع فوجی کارروائی شروع کی۔ اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 250 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر محاصرہ، فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں شروع کیں، جن کے نتیجے میں مقامی صحت حکام کے مطابق اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اکتوبر 2025 میں امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود اب تک 650 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 1740 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
پریٹوریا کا الزام ہے کہ اسرائیل نے 1948 کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل، جبری نقل مکانی اور انسانی امداد کی بندش جیسے اقدامات کیے۔ تاہم اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں 7 اکتوبر کے حملے کے جواب میں حماس کے خلاف جائز دفاع ہیں۔
اس مقدمے میں امریکہ، ہنگری اور فجی نے اسرائیل کے مؤقف کی حمایت میں قانونی دلائل جمع کرائے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ نسل کشی کے ارادے کو ثابت کرنے کے لیے سخت معیار برقرار رکھنا ضروری ہے، ورنہ بین الاقوامی قانون کمزور پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب نمیبیا، آئس لینڈ اور نیدرلینڈز سمیت ایک درجن سے زائد ممالک جنوبی افریقہ کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نسل کشی کنونشن کی تشریح وسیع ہونی چاہیے اور غزہ کی مجموعی صورتحال، اسرائیلی کارروائیوں اور ان کے اثرات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔