ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے جرائم سے متاثرہ علاقوں میں فوج کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے متاثرہ کمیونٹیز میں استحکام بحال کرنے میں مدد مل رہی ہے، تاہم مستقل طور پر فوج کی موجودگی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رامافوسا نے کہا کہ جنوبی افریقی نیشنل ڈیفنس فورس کی پانچ صوبوں میں تعیناتی پولیس کی مدد کر رہی ہے اور مقامی آبادی نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے یہ بیان انکاتھا فریڈم پارٹی کے رکنِ پارلیمان نہلانھلا ہادیبے کے سوال کے جواب میں دیا، جس میں تعیناتی کے نتیجے میں عوامی تحفظ میں بہتری سے متعلق پوچھا گیا تھا۔ صدر رامافوسا نے کہا کہ فوج کو پولیس کی معاون قوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف جرائم سے نمٹا جا سکے۔ ان کے مطابق مغربی کیپ، مشرقی کیپ اور گاؤٹنگ صوبوں میں گینگ وار اور مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائی میں فوج مدد فراہم کر رہی ہے، جبکہ گاؤٹنگ اور نارتھ ویسٹ صوبے میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی تعیناتی پولیس کی کوششوں کو مکمل کرنے اور کمیونٹیز میں استحکام لانے کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوجی اہلکار پولیس کی کمان کے تحت کام کر رہے ہیں اور ان کے لیے واضح قواعد و ضوابط طے کیے گئے ہیں۔ صدر کے مطابق فوج کو زیادہ خطرناک علاقوں میں سکیورٹی فراہم کرنے، سرچ آپریشنز اور مسلح جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ناکہ بندیوں میں پولیس کی معاونت کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔
صدر رامافوسا نے یہ بھی کہا کہ فوج اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت بھی کر سکتی ہے جس سے پولیس اہلکاروں کو تفتیشی کارروائیوں پر زیادہ توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ فوج کی تعیناتی پولیس کی ناکامی کی علامت ہے اور کہا کہ دراصل پولیس اور فوج کو مشترکہ طور پر عوام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک ساتھ کام کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس اقدام کے ساتھ ساتھ گینگ مخالف یونٹس کو مضبوط بنانے اور غیر قانونی کان کنی کے خلاف خصوصی ٹاسک فورسز کو فعال بنانے جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ پولیس نیشنل پراسیکیوٹنگ اتھارٹی کے ساتھ مل کر منظم جرائم کے نیٹ ورکس، مالی ذرائع اور اسلحہ کی فراہمی کے نظام کو نشانہ بنانے کے لیے مشترکہ کارروائیاں بھی کرے گی۔
صدر کے مطابق فوج کی تعیناتی مرحلہ وار طریقے سے کی جا رہی ہے اور جہاں بھی فوجی دستے پہنچ رہے ہیں وہاں مقامی آبادی نے ان کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی موجودگی سے استحکام پیدا ہو رہا ہے اور حکومت کا مقصد جرائم کا خاتمہ کر کے ان علاقوں میں مستقل امن قائم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوجی تعیناتی ایک مخصوص مدت کے لیے ہے اور ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ صدر رامافوسا نے کہا کہ وقت کے ساتھ عوام میں فوج کے کردار کے بارے میں تصور بھی تبدیل ہوا ہے اور اب دفاعی فورس نہ صرف سکیورٹی بلکہ کمیونٹی کی خدمت، امدادی سرگرمیوں اور پولیس کی معاونت میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔
صدر نے 2021 کے دوران جنوبی افریقہ میں ہونے والے فسادات کے دوران فوج کے کردار کا بھی حوالہ دیا، جب فوجی دستوں نے متاثرہ علاقوں میں صورتحال کو قابو میں لانے میں مدد دی تھی۔ انہوں نے رواں سال اسٹیٹ آف دی نیشن خطاب میں اعلان کیا تھا کہ گاؤٹنگ، مغربی کیپ اور مشرقی کیپ سمیت زیادہ جرائم والے صوبوں میں فوج تعینات کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق اس ہفتے کے آغاز میں پولیس اور فوج نے مشترکہ کارروائیوں کے دوران ایلڈوراڈو پارک، ریورلیا، ویسٹبری اور صوفیا ٹاؤن میں چھاپے مارے، جہاں ممنوعہ اشیاء، غیر قانونی اسلحہ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کی تلاش کی گئی۔
بدھ کے روز آپریشن پروسپر کے تحت گاؤٹنگ میں جنوبی افریقی نیشنل ڈیفنس فورس کے 550 اہلکار تعینات کیے گئے۔ پولیس کے ساتھ مشترکہ اس آپریشن کا مقصد غیر قانونی کان کنی اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی ہے۔ حکام کے مطابق اس تعیناتی پر 80 ملین رینڈ سے زائد لاگت آئے گی۔