اسپین کا امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار

US Airforce US Airforce

اسپین کا امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
اسپین نے امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ہسپانوی اخبار El Pais کے مطابق میڈرڈ نے باضابطہ طور پر امریکی۔اسرائیلی فوجی آپریشن کی حمایت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے ذریعے اسپین نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے مؤقف سے فاصلہ اختیار کیا ہے، جنہوں نے خلیج فارس اور قبرص میں تہران کے حملوں کے جواب میں ممکنہ جارحانہ اقدامات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اسپین کے وزیر خارجہ José Manuel Albares نے کہا کہ یورپ کی آواز اس وقت توازن اور اعتدال کی ہونی چاہیے، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی ہو۔ انہوں نے خلیجی ممالک اور Cyprus پر ایران کے حملوں کی مذمت بھی کی اور قبرص کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسپین کی وزیر دفاع Margarita Robles نے بتایا کہ میڈرڈ کے فیصلے کے بعد پینٹاگون نے 12 کے سی۔135 طیارہ بردار ایندھن بردار طیارے واپس بلا لیے ہیں، جو اس سے قبل مورون دے لا فرونتیرا (سیویل) اور روٹا (قادس) کے فوجی اڈوں پر تعینات تھے۔ یہ طیارے لڑاکا بمبار طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

ادھر امریکی صدر Donald Trump نے کہا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم Keir Starmer کے فیصلے پر مایوس ہوئے تھے، جب انہوں نے ابتدائی طور پر بحرِ ہند میں واقع جزیرے ڈیاگو گارشیا کے ہوائی اڈے کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ تاہم بعد ازاں اسٹارمر نے محدود اور مخصوص مقاصد کے لیے امریکی فضائیہ کو رسائی دینے کی اجازت دے دی۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان Dmitry Peskov نے امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ روس ایرانی قیادت اور خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ ان حملوں میں متعدد ایرانی فوجی اور سول اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بڑے شہر بھی شامل تھے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد Islamic Revolutionary Guard Corps نے جوابی بڑے پیمانے کی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔