اسپین میں تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

immigrants boat immigrants boat

اسپین میں تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
اسپین کی حکومت نے ایک متنازع فیصلے کے تحت تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں شدید سیاسی بحث چھڑ گئی ہے جبکہ پورے یورپ میں امیگریشن کے خلاف جذبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منگل کے روز اسپین کی کابینہ نے ایک فرمان منظور کیا، جو اپریل سے نافذ العمل ہونے کی توقع ہے۔ اس فرمان کے تحت ایسے غیر ملکی افراد کو ایک سالہ رہائشی اور ورک پرمٹ دیا جائے گا جو یہ ثابت کر سکیں کہ وہ 2025 کے اختتام سے قبل کم از کم پانچ ماہ اسپین میں مقیم رہے ہیں۔ یہ اقدام وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی سوشلسٹ حکومت اور بائیں بازو کی جماعت پوڈیموس نے تیار کیا، جبکہ منقسم پارلیمان کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے فرمان کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ افرادی قوت کی کمی اور تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ اسپین کو افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے اور ملک کو یہ انتخاب کرنا ہوگا کہ آیا وہ “ایک بند اور غریب قوم” بننا چاہتا ہے یا “دنیا کے لیے خود کو کھول کر خوشحالی کو یقینی بنانا چاہتا ہے”۔

تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ قدامت پسند پاپولر پارٹی کے رہنما البرتو نونیز فیخو نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ حالیہ مہلک مسافر ٹرین حادثات کے بعد پیدا ہونے والے قومی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو “غیر قانونی ہجرت کے لیے انعام” قرار دیتے ہوئے اقتدار میں واپسی کی صورت میں اسے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ دائیں بازو کی جماعت ووکس کے سربراہ سانتیاگو اباسکل نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے حکومت پر مقامی آبادی کو “تبدیل کرنے” کے لیے بڑے پیمانے پر “دراندازی” کو فروغ دینے کا الزام لگایا اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کا مطالبہ کیا۔

Advertisement

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کے کئی ممالک میں امیگریشن کے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں اور جرائم و سماجی مسائل کے خدشات کے باعث دائیں بازو کی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کھلی سرحدوں کی پالیسیاں یورپ کے سماجی ڈھانچے کو بدل رہی ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی ممالک بے قابو امیگریشن پالیسیوں کے باعث خود کو “تباہ” کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار کم، معیارِ زندگی گرا اور سماجی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ ادھر روسی قیادت بھی یورپی یونین کے زوال پر مسلسل تنقید کرتی رہی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کو مغرب میں خوش آمدید کہنے کی توقع تھی، مگر وہاں “تہذیب کا وجود ہی نہیں بلکہ صرف زوال نظر آتا ہے”۔