ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ حکومت نے رواں ماہ امریکہ کی جانب سے دو لڑاکا طیاروں کو ملک میں اترنے اور زمینی سہولتیں فراہم کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ صدر کے مطابق واشنگٹن نے 4 اور 8 مارچ کو جزیرے پر موجود ایک ہوائی اڈے پر جنگی طیاروں کو اتارنے کی اجازت مانگی تھی۔
صدر دسانائیکے نے بتایا کہ امریکہ چاہتا تھا کہ جبوتی میں موجود اپنے فوجی اڈے سے دو جنگی طیارے سری لنکا کے مٹالا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتارے جائیں۔ ان طیاروں پر آٹھ اینٹی شپ میزائل نصب تھے، تاہم سری لنکا نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ سری لنکا مختلف دباؤ کے باوجود اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ خطے کے لیے چیلنجز پیدا کر رہی ہے، مگر سری لنکا ہر ممکن کوشش کرے گا کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار رہے اور کسی بھی فریق کا حصہ نہ بنے۔
صدر نے مزید بتایا کہ سری لنکا نے ایران کے تین بحری جہازوں کو بھی خیرسگالی دورے کے لیے ملک آنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت علاقائی کشیدگی کے پیش نظر محتاط پالیسی اختیار کر رہی ہے۔
یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب صدر دسانائیکے نے جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سرجیو گور سے ملاقات کی۔ سری لنکن صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ انہوں نے امریکی نمائندے کو مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے حوالے سے سری لنکا کے مؤقف سے آگاہ کیا۔
اس سے قبل رواں ماہ سری لنکا نے ایک ایرانی جنگی جہاز کو ٹرنکومالی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی تھی اور اس کے 208 عملے کے ارکان کو بچایا تھا۔ یہ اقدام اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا تھا جب امریکہ نے سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک اور ایرانی جہاز کو حملہ کر کے تباہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 87 ملاح ہلاک ہو گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق وہ غیر مسلح ایرانی جہاز بھارت کی میزبانی میں ہونے والی ایک بحری مشق سے واپس آ رہا تھا۔ امریکی کارروائی کو عالمی سطح پر سمندری قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔