برطانوی فوج کی توہین پر صدر ٹرمپ معافی مانگیں، برطانوی وزیرِاعظم
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان جنگ میں برطانیہ اور دیگر اتحادی افواج کے کردار کو کم تر قرار دینے پر معافی مانگیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات برطانوی فوج اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے نہایت توہین آمیز اور تکلیف دہ ہیں۔ امریکا نے 2001 میں نائن الیون حملوں کے بعد نیٹو کے آرٹیکل فائیو کو فعال کرتے ہوئے رکن ممالک سے افغانستان پر حملے میں تعاون کی درخواست کی تھی۔ اس کے جواب میں برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک نے امریکی افواج کے ساتھ مل کر فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ مسلسل نیٹو کے یورپی ارکان پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں تھی اور نیٹو اتحادی محاذ سے پیچھے رہے۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے ان بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے الفاظ برطانوی فوجیوں کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ریمارکس سے ان خاندانوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے جنہوں نے اپنے پیارے افغانستان جنگ میں کھوئے یا زخمی حالت میں واپس پائے۔ جب اسٹارمر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صدر ٹرمپ سے معافی کی توقع رکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے خود ایسی بات کہی ہوتی تو وہ بلا جھجک معافی مانگتے۔ افغانستان میں دو مرتبہ خدمات انجام دینے والے برطانوی شہزادہ ہیری نے بھی اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی فوجیوں کی قربانیاں سچائی اور احترام کے ساتھ بیان کی جانی چاہئیں۔
بی بی سی کے مطابق افغانستان میں مغربی ممالک میں سب سے زیادہ فوجی امریکا کے بعد برطانیہ کے تھے، جن کی تعداد 2011 میں تقریباً گیارہ ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ بیس سالہ جنگ کے دوران دو ہزار چار سو چھپن امریکی اور چار سو ستاون برطانوی فوجی ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب یورپی ممالک اس وقت بھی بے چینی کا شکار ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈنمارک سے گرین لینڈ کے الحاق کی دھمکیاں دی ہیں۔ ڈاووس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ امریکا کی جانب سے دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف دی گئی مدد کا شکرگزار نہیں۔ کئی یورپی ریاستوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی نیٹو رکن ملک کے خلاف کارروائی کی تو یہ اتحاد کے خاتمے کے مترادف ہو گا۔