برطانیہ کا یورپی یونین کے دفاعی فنڈ میں شمولیت پر دوبارہ غور

Keir Starmer Keir Starmer

برطانیہ کا یورپی یونین کے دفاعی فنڈ میں شمولیت پر دوبارہ غور

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے یورپی یونین کے دفاعی فنڈ میں شمولیت کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین کے ’’سیکیورٹی ایکشن فار یورپ‘‘ دفاعی فنڈ تک رسائی سے متعلق تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کرنا ہوگا اور اس حوالے سے برطانیہ بھی زیادہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق کیئر اسٹارمر نے کہا کہ صرف امریکی صدر ہی نہیں بلکہ دیگر عالمی رہنما بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یورپ کو دفاع کے میدان میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی سوچ کے تحت برطانیہ نے دفاعی اخراجات بڑھانے کے وعدے کیے ہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایسے منصوبوں پر غور کیا جائے جن کے ذریعے یورپی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون ممکن ہو۔ کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ ’’سیکیورٹی ایکشن فار یورپ‘‘ جیسے منصوبوں پر نظرِ ثانی ضروری ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کس طرح دفاعی شعبے میں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں بعض ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا تھا کہ برطانیہ کی اس دفاعی فنڈ میں شمولیت کے لیے ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے، جس کی بڑی وجہ مالی شراکت کے معاملے پر اختلافات تھے۔ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے اس فنڈ تک رسائی کے لیے برطانیہ سے ابتدائی طور پر بھاری رقم طلب کی تھی، جسے بعد میں کم کیا گیا، تاہم یہ رقم اب بھی برطانوی حکومت کے لیے قابلِ قبول سطح سے کہیں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین کے دفاعی فنڈ کا حصہ بننا چاہتا ہے، لیکن ’’ہر قیمت پر نہیں‘‘۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لندن اور برسلز کے درمیان دفاعی تعاون کے مستقبل پر بات چیت ایک بار پھر اہم مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

Advertisement