ایران جنگ کیلئے سوئٹزرلینڈ کا امریکہ کو اسلحہ برآمد کرنے سے انکار

Swiss flag Swiss flag

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث امریکہ کو اسلحہ برآمد کرنے کے لیے نئی لائسنس جاری نہیں کرے گا۔ حکومت نے اپنے فیصلے کی وجہ ملک کی طویل عرصے سے قائم غیر جانبداری کی پالیسی کو قرار دیا ہے۔ سوئس حکومت نے جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ بین الاقوامی مسلح تنازع میں شامل ممالک کو جنگی سازوسامان برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بیان کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکہ کو اسلحہ کی برآمدات کی منظوری دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کو تقریباً تین ہفتے ہو چکے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے جبکہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ اس سے قبل بھی ایران جنگ سے براہ راست منسلک امریکی فوجی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں سوئس حکام نے بتایا تھا کہ انہوں نے ایران سے متعلق امریکی جنگی پروازوں کے دو فضائی گزر کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں جبکہ تین دیگر درخواستوں کو غیر جانبداری کے قانون کے تحت اجازت دی گئی۔

سوئٹزرلینڈ کے 1996 کے وفاقی قانون کے مطابق جنگی سازوسامان اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی درآمد، برآمد اور نقل و حمل کے لیے خصوصی لائسنس درکار ہوتا ہے اور ان فیصلوں میں انسانی حقوق اور غیر جانبداری کے اصولوں کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔ حکومت نے کہا کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ کو اسلحہ برآمد کرنے کے لیے کوئی نیا لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ حکام کے مطابق امریکہ کو دیے گئے موجودہ لائسنسوں کا بھی ماہرین کے ایک گروپ کی جانب سے باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا غیر جانبداری کے قانون کے تحت مزید اقدامات کی ضرورت ہے یا نہیں۔ سوئس حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل اور ایران دونوں کو اسلحہ برآمد کرنے کے لیے کئی سالوں سے کوئی حتمی لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ اسی طرح دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی اور مخصوص فوجی سامان کی برآمدات کا بھی ماہرین کی جانب سے مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال امریکہ سوئٹزرلینڈ سے اسلحہ درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک تھا اور اس مقصد کے لیے تقریباً 119 ملین ڈالر مالیت کی خریداری کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی سوئٹزرلینڈ نے اپنے اتحادی ممالک کو یوکرین کو سوئس ساختہ فوجی سامان فراہم کرنے سے روک دیا تھا۔ اسی طرح 2003 میں عراق پر امریکی قیادت میں حملے کے بعد سوئٹزرلینڈ نے جنگ میں شامل ممالک کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال اور اسلحہ برآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی، جسے بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔