سوئٹزرلینڈ میں غیر جانبداری پر اہم ریفرنڈم، نیٹو سے تعاون زیر بحث

Switzerland flag Switzerland flag

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

سوئٹزرلینڈ میں ملک کی دیرینہ غیر جانبداری سے متعلق اہم ریفرنڈم آج 28 ستمبر کو ہو رہا ہے، جس کے ذریعے غیر جانبداری کے موجودہ اصولوں کو مزید سخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ اقدام کی منظوری کی صورت میں دوسرے ممالک کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور فوجی اتحادوں کے ساتھ تعاون کرنے کے حوالے سے سوئس حکومت کے اختیارات محدود ہوجائیں گے۔ مجوزہ ’’غیر جانبداری اقدام‘‘ کے تحت سوئٹزرلینڈ کے آئین میں غیر جانبداری سے متعلق مزید سخت شقیں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے تحت برن کسی دوسرے ملک کے خلاف اقتصادی پابندیاں صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کے بعد عائد کرسکے گا۔ اس کا براہ راست اثر روس کے خلاف سوئٹزرلینڈ کی موجودہ پابندیوں پر بھی پڑسکتا ہے، کیونکہ روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔

مجوزہ اقدام میں دفاعی اتحادوں، بشمول نیٹو، کے ساتھ فوجی تعاون پر بھی مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویز ہے، تاہم اگر سوئٹزرلینڈ پر براہ راست حملہ کیا جائے تو اس پابندی سے استثنا حاصل ہوگا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں سوئٹزرلینڈ کی فضائی دفاع اور فوجی نقل و حرکت سمیت مختلف دفاعی منصوبوں میں شرکت متاثر ہوسکتی ہے۔

دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی غیر جانبداری کے اصولوں کو مزید سخت کرنے کی حمایت کر رہی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ ملک کی غیر جانبداری کو مستقبل میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے آئینی تحفظ ضروری ہے۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کی وفاقی کونسل اور پارلیمنٹ نے اس اقدام کو مسترد کرنے کی سفارش کی ہے اور موجودہ نظام کو ملکی سلامتی کے لیے کافی قرار دیا ہے۔

ابتدائی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق تقریباً 68 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ موجودہ غیر جانبداری کے اصولوں کو مزید سخت کرنے کی ضرورت نہیں۔

ریفرنڈم کے نتائج سوئٹزرلینڈ کے امریکا اور یورپی یونین سمیت مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات، روس کے خلاف پابندیوں کی پالیسی اور دفاعی تعاون کے مستقبل پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ ریفرنڈم کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا سوئٹزرلینڈ اپنی موجودہ غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا یا اسے آئینی طور پر مزید سخت شکل دی جائے گی۔