طالبان کا کابل میں ’ہسپتال پر بمباری‘ میں 400 اموات کا دعویٰ

Kabul Kabul

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

افغان طالبان نے منگل کی صبح دعویٰ کیا ہے کہ کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال پر پاکستان کی مبینہ فضائی کارروائی میں کم از کم 400 اموات ہوئی ہیں۔ پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ طالبان ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال پر پاکستانی فضائی بمباری میں کم از کم 400 افراد مارے گئے جبکہ 250 زخمی ہوئے ہیں۔‘

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں بتایا کہ ’کابل پر پاکستانی فوجی حکومت کے حملوں کے جواب میں، اب اسلام آباد کے ساتھ سفارت کاری اور مذاکرات کا وقت نہیں ہے، بلکہ امارت اسلامیہ بدلہ لے گی۔‘ اس سے قبل چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ وہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہی ہے۔افغانستان کے قومی کرکٹر راشد خان نے کابل پر پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی شرم ناک‘ فعل قرار دیا ہے۔ راشد خان نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’شہریوں کے گھروں، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولیات کو نشانہ بنانا، چاہے جان بوجھ کر ہو یا حادثاتی، ایک سنگین جنگی جرم ہے۔ ’خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں معصوم لوگوں کی قیمتی جانوں کی بےحرمتی ایک دل دہلا دینے والا فعل ہے۔‘ انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سانحے کی ’مکمل تحقیقات‘ کریں اور ذمہ داروں کا احتساب کریں۔