ابوظبی مذاکرات: روس، امریکا اور یوکرین میں علاقائی معاملہ بدستور بڑی رکاوٹ

Russia, Ukraine in Abu Dhabi Russia, Ukraine in Abu Dhabi

ابوظبی مذاکرات: روس، امریکا اور یوکرین میں علاقائی معاملہ بدستور بڑی رکاوٹ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ابوظبی میں روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری سہ فریقی مذاکرات میں علاقائی مسئلہ بدستور سب سے زیادہ پیچیدہ اور حساس قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ روس کی جانب سے دونباس سے یوکرینی افواج کے انخلا کو مذاکرات میں ایک بنیادی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات مذاکرات سے قریب سمجھے جانے والے ایک ذریعے نے ہفتے کے روز خبر رساں ادارے تاس کو بتائی۔ ذرائع کے مطابق علاقائی معاملہ اب بھی حل طلب ہے اور اسی نکتے پر سب سے زیادہ پیچیدگیاں درپیش ہیں۔ ذریعے نے کہا کہ روس کے لیے دونباس سے یوکرینی فوجی دستوں کا انخلا نہایت اہم ہے، جبکہ اس ضمن میں مختلف سکیورٹی پیرامیٹرز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 22 جنوری کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کاروباری شخصیت جیرڈ کشنر سے ملاقات کی تھی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق یہ ملاقات نہایت بامقصد، تعمیری، کھلی اور باہمی اعتماد پر مبنی تھی۔ یہ مذاکرات تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہے اور ان کا مرکز یوکرین تنازع کا ممکنہ حل تھا۔

ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ روس، امریکا اور یوکرین پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس 23 جنوری کو ابوظبی میں منعقد ہوگا، جس میں سکیورٹی سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ جمعے کے روز تاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی مشاورت کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور فریقین اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں کو مذاکرات کے ابتدائی نتائج سے آگاہ کریں گے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے پایا کہ مذاکراتی عمل کو اگلے روز بھی جاری رکھا جائے گا۔ روسی وفد کی قیادت جنرل اسٹاف کے مین ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ایگور کوستیوکوف کر رہے ہیں، جبکہ یوکرینی وفد کی سربراہی نیشنل سکیورٹی اینڈ ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری رستم عمروف کے پاس ہے۔

Advertisement