ایران، امریکہ تنازع کے بعد خلیج ارب پتیوں کے لیے جنت نہیں رہے گا
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے بڑے پیمانے پر حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے خلیجی خطے کو شدید متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور دیگر خلیجی ممالک جو طویل عرصے سے ارب پتی افراد، ہائی نیٹ ورتھ فیملیز اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش منزل سمجھے جاتے تھے، اب براہ راست تنازع میں گھس چکے ہیں۔ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے دبئی، ابوظہبی، قطر کے انرجی مراکز، سعودی ریفائنریز اور بحرین کے ہوٹلوں سمیت شہری اور معاشی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس سے خطے کی “استحکام اور حفاظت” کی شبیہ شدید متاثر ہوئی ہے۔
خلیجی ممالک نے برسوں سے اپنے تیل کی دولت، جدید انفراسٹرکچر، کم ٹیکسز، لگژری لائف اسٹائل اور سیاسی استحکام کی بنیاد پر ارب پتیوں کو راغب کیا۔ دبئی اور ابوظہبی رئیل اسٹیٹ، مالیاتی مراکز، ٹیکنالوجی ہبز اور سیاحت کے لیے مشہور ہوئے جہاں لاکھوں غیر ملکی اور سرمایہ کار مقیم ہیں۔ تاہم ایران کی جوابی کارروائیوں نے ہوائی اڈوں، پورٹس، ڈیٹا سینٹرز اور ہوٹلوں کو متاثر کیا ہے جس سے فلائٹس معطل، پیداوار رک گئی اور سرمایہ کاروں میں خوف پھیل گیا ہے۔
ماہرین اور رپورٹس کے مطابق یہ تنازع خلیج کی معاشی ماڈل کو چیلنج کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور خلیجی ممالک کی آمدنی پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی ریفائنری اور قطر کی گیس پروڈکشن متاثر ہوئی ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں میں خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ خطہ اب “جنگ کا زون” بن سکتا ہے۔
ارب پتی افراد اور ادارہ جاتی سرمایہ کار اب پورٹ فولیوز کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ کئی کی توجہ سنگاپور، سوئٹزرلینڈ اور دیگر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک کی ویژن 2030 جیسی ڈائیورسفیکیشن منصوبہ بندیوں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کیونکہ سیاحت، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس جیسے شعبے جنگ زدہ علاقے میں ترقی نہیں کر سکتے۔
خلیجی ممالک اب اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے اور تنازع میں شامل نہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایرانی حملوں نے ان کی نیوٹرلٹی کو چیلنج کر دیا ہے۔ اگر تنازع طویل ہوا تو سرمایہ کاری میں کمی، غیر ملکیوں کی منتقلی اور معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ خطہ اب بھی بہت بڑی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ “ارب پتیوں کی جنت” کا درجہ برقرار رکھنے کے لیے علاقائی امن اور استحکام ناگزیر ہے۔