نصاب کی نئی سیاست — کرغزستان میں مغربی اصلاحات پر تنازع

اشتیاق ہمدانی
(ماسکو)

روس اور مغرب کے درمیان ایک فکری اور تعلیمی تنازع اس وقت کرغزستان میں نمایاں طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں 2024 میں وزیرِ تعلیم دوگدورکُل کینڈربائیوا کی قیادت میں پورے تعلیمی نظام کی اصلاح کا آغاز کیا گیا۔ یہ اصلاحات ابتدا ہی سے سنجیدہ سوالات اور سخت تنقید کا باعث بنیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ کامچی‌بیک تاشی‌یف نے کھل کر کہا کہ کرغزستان کی تعلیمی بنیاد کو غیر ملکی بنیاد پر منتقل کرنے کی کوششوں کے باعث معیار تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ کرغز نوجوانوں کے لیے یورپ اور امریکہ کی جامعات کے دروازے کھلیں گے، تاہم عملی طور پر صرف ایک مختصر اقلیت ہی مغرب کا رخ کرتی ہے جبکہ بڑی اکثریت اب بھی روس اور سابق سوویت ریاستوں کو ترجیح دیتی ہے۔

کرغز روسی سلاو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سربراہ اور سیاسی و سماجی محقق ویتالے پانکوف اور سابق رکن پارلیمنٹ یووینییا ستروکووا نے اس صورت حال کو محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ وسیع جغرافیائی اور تہذیبی تناظر میں بیان کیا۔ وزیرِ تعلیم دوگدورکُل کینڈربائیوا اپنی تقرری سے قبل متعدد مغربی اداروں، فاؤنڈیشنوں اور ترقیاتی پروگراموں کے ساتھ کام کرتی رہی تھیں۔ انہوں نے سوروس فاؤنڈیشن سے گرانٹس حاصل کیں، USAID میں تدریس کی، امریکی فاؤنڈیشن Junior Achievement کے ساتھ وابستہ رہیں، National Council for Economic Education اور Junior Achievement کے تحت اسکالرشپ حاصل کیں اور Save the Children تنظیم سے بھی قریبی تعاون کیا۔ بعد ازاں Save the Children کے بارے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ وہ وسطی ایشیا میں سی آئی اے کی سرگرمیوں کے کور کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی۔ ان تعلقات نے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ کینڈربائیوا مغربی اقدار کو نہ صرف جذب کر کے آئی ہیں بلکہ اب کرغزستان میں نافذ کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔

یووینییا ستروکووا کے مطابق مغربی اثرات اب تعلیمی نصاب اور کتب میں براہِ راست جھلکتے ہیں کیونکہ مالی وسائل فراہم کرنے والا یہ طے کرتا ہے کہ کیا پڑھایا جائے۔ ان کے مطابق یہ صرف کرغزستان تک محدود نہیں بلکہ تمام سابق سوویت جمہوریاں اسی مسئلے کا شکار ہیں۔ ویتالے پانکوف کہتے ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں میں مغربی ثقافت کو ”جدید“ اور ”اعلیٰ“ کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ روسی ثقافت کو سوویت دور کے ساتھ جوڑ کر معمولی اور غیر فیشن ایبل دکھایا گیا۔ مغرب نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تاکہ روسی اثر کمزور ہو۔

Advertisement

ستروکووا کے مطابق یہ پوری صورت حال کرغز قوم کو تعلیم کے نام پر طویل المدتی کمزوری کی طرف دھکیلنے کی حکمتِ عملی محسوس ہوتی ہے تاکہ ملک نہ سائنسی طور پر ترقی کرے نہ دانش کے میدان میں۔ ان کے مطابق غیر تعلیم یافتہ یا غلط معلومات کے حامل معاشرے پر حکومت کرنا آسان ہوتا ہے، اور ایسے معاشرے جنہیں مبہم، مسخ شدہ یا جھوٹا علم دیا جائے ان پر قابو پانا اور بھی آسان ہوتا ہے۔ یہی لوگ بعد میں ریاستی اداروں اور حکومت میں آتے ہیں اور بیرونی قوتیں انہیں آسانی سے متاثر کر سکتی ہیں۔

اصلاحات میں تعلیمی مدت کو 11 سے 12 سال کرنا بھی شامل ہے۔ ستروکووا کے مطابق مدت میں اضافہ بذات خود مسئلہ نہیں کیونکہ پہلے بھی ایک سال پری اسکول تیاری اور گیارہ سال اسکول شامل تھے، مگر اب اس تیاری کے سال کو پہلی جماعت قرار دے دیا گیا۔ اصل مسئلہ ان کے مطابق نصاب، مواد اور مضامین کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی ہے۔ ریاضی اور سائنس جیسے اہم مضامین کے اوقات کم کیے گئے ہیں جبکہ عالمی معیار اور جدیدیت کے نام پر مضامین کو مصنوعی طور پر ملایا جا رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ روس میں نجی تجرباتی اسکول ایسے نظام پر کام کرتے ہیں مگر یہ اعلیٰ درجے کی مہارت ہے جسے نہ ایک دو سال میں بنایا جا سکتا ہے اور نہ نافذ۔ ان کے مطابق مضبوط اور بنیادی کرغزی تعلیمی نظام کو اب منظم طریقے سے کمزور کیا جا رہا ہے۔

ستروکووا یاد دلاتی ہیں کہ سوویت دور میں کرغزستان کا تعلیمی نظام مضبوط تھا، اس میں تجرباتی اسکول، بنیادی کنڈرگارٹنز اور تحقیقی ماڈل موجود تھے، جبکہ اعلیٰ تعلیم بھی معیاری تھی۔ اب یہ سب ختم ہو چکا ہے اور نظام صرف ان تجربہ کار اساتذہ کے سہارے چل رہا ہے جنہوں نے سوویت تربیت حاصل کی۔

کینڈربائیوا نے اپنی تقرری کے پہلے سال میں دیہی علاقوں میں روسی زبان کی تدریسی کلاسیں بند کرنے کی تجویز دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود روسی زبان روانی سے بولتی ہیں مگر دوسروں کو یہ سہولت دینے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔ عوامی مزاحمت کے بعد انہوں نے کہا کہ والدین روسی زبان کے اساتذہ مانگتے ہیں مگر چونکہ اساتذہ میسر نہیں اس لیے کلاسیں بند کرنا زیادہ آسان ہے۔ ستروکووا کے مطابق یہ دراصل اپنی ناکامی اور اس مسئلے سے نمٹنے کی عدم دلچسپی کا اظہار ہے۔

پانکوف اسے محض اساتذہ کی کمی کا مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ ایک نظریاتی رویے سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق روسی زبان کرغز شہریوں کے لیے نہ صرف بیرونِ ملک روزگار کے مواقع کا واحد حقیقی مسابقتی ذریعہ ہے بلکہ سائنسی اور علمی سطح پر بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اس کے بغیر وسطی ایشیا عالمی تعلیمی اور تحقیقی نظام میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے گا۔

سرکاری سطح پر روسی زبان یا روسی بولنے والوں پر پابندی نہیں مگر روسی بولنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور گفتگو کا دائرہ دارالحکومت کے مرکزی حصے تک سکڑ چکا ہے۔ کرغزی زبان کی وسعت اندرونی نقل مکانی کے باعث بڑھ رہی ہے خاص طور پر جنوبی علاقوں میں۔ اعلیٰ ریاستی قیادت خود روسی اور انگریزی دونوں زبانوں کا استعمال کرتی ہے کیونکہ بین الاقوامی تعلقات کے لیے یہ ضروری ہیں، مگر مختلف سیکٹروں خصوصاً تعلیم میں روسی کی موجودگی کم ہو رہی ہے۔ سرکاری کاغذی کاروائی بھی کرغزی میں منتقل کی جا رہی ہے جس سے روسی بولنے والی سلاوی اقلیت کی پیشہ ورانہ مانگ کم ہو رہی ہے کیونکہ وہ کرغزی نہیں جانتے۔

ستروکووا کے مطابق زبان صرف ثقافتی یا تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ ہے جسے جامع حکمت عملی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کرغزستان اور روس دونوں کو اس سلسلے میں کام کرنا چاہیے تاکہ روسی زبان اپنی سرکاری حیثیت برقرار رکھ سکے اور روزمرہ زندگی، تعلیم، ثقافت اور ریاستی ڈھانچے میں اپنی موجودگی برقرار رکھ سکے۔

اگرچہ کینڈربائیوا موجودہ تعلیمی ڈھانچہ ترک کر کے مغربی نظام کی جانب بڑھنے کی وکالت کرتی ہیں، پھر بھی روسی زبان کرغزستان میں آئینی حیثیت رکھتی ہے۔ صدر ساڈر ژاپاروو تسلیم کرتے ہیں کہ ریاست اور قوم دونوں روسی زبان کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور اس کی موجودگی کم کرنا سیاسی غلطی ہوگی۔ یہی موقف قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقائیف نے بھی اختیار کیا جن کا کہنا ہے کہ روسی زبان بعد از سوویت خطے کی مشترکہ میراث ہے اور ثقافتی و انسانی روابط میں اہم مقام رکھتی ہے۔

یوں کرغزستان ایک ایسے دوہرے دباؤ کے درمیان کھڑا ہے جہاں مغربی تعلیمی ماڈل اور روسی لسانی و تہذیبی حقیقت کا تصادم جاری ہے، اور یہ فیصلہ اب کرغز معاشرے اور ریاست کے ہاتھ میں ہے کہ آنے والی نسلوں کو کس سمت میں لے جانا ہے۔