نئی شاہراہِ ریشم: وسطی ایشیا کو کراچی اور گوادر سے جوڑنے کی پیش رفت
اسلام آباد (صداۓ روس)
یوریشیا کی معاشی جغرافیہ میں ایک اہم تبدیلی ابھر رہی ہے۔ 5 فروری 2026 کو پاکستان اور قازقستان نے باہمی تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری تک بلند کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت قازق صدر قاسم جومارت توکایف کے دورۂ پاکستان کے دوران سامنے آئی، جو گزشتہ 23 برس میں کسی قازق سربراہِ مملکت کا پہلا دورہ تھا۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ علاقائی رابطہ کاری کے ایک نئے مرحلے کا اشارہ ہے۔
طویل عرصے سے وسطی ایشیائی ممالک کی خشکی میں گھرے ہونے کی جغرافیائی حقیقت نے ان کی تجارت اور مسابقت پر دباؤ برقرار رکھا۔ بلند ٹرانزٹ اخراجات، طویل فاصلے اور محدود راستوں پر انحصار نے برآمدات اور صنعتی تنوع کو متاثر کیا۔ تاہم حالیہ سفارتی اور انفراسٹرکچر اقدامات اس رکاوٹ کو موقع میں بدلنے کی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
قازق قیادت نے پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے گرم پانیوں تک قابلِ اعتماد رسائی کو کلیدی حیثیت دی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی بندرگاہوں کراچی اور گوادر بندرگاہ کو وسطی ایشیا کے لیے نسبتاً قریب اور مؤثر سمندری دروازے قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق فاصلے میں کمی سے فریٹ لاگت، ترسیل کے دورانیے اور انشورنس اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہے، جس سے برآمدی مسابقت بہتر ہو سکتی ہے۔
اس شراکت داری کے تحت ایک عملی ماڈل زیرِ بحث ہے جس میں سامان کراچی سے پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے ہری پور تک منتقل ہو، پھر شاہراہِ قراقرم کے راستے چین میں داخل ہو کر دوستیک–الاشانکو کوریڈور کے ذریعے قازقستان تک پہنچے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ روٹ موجودہ انفراسٹرکچر، آزمودہ لاجسٹکس اور شریک ممالک کے درمیان ادارہ جاتی ہم آہنگی پر مبنی ہے۔
مزید برآں، علاقائی سطح پر متبادل راستوں پر بھی غور جاری ہے۔ ان میں ازبکستان–افغانستان–پاکستان ریلوے منصوبہ شامل ہے، جس کے تحت تاشقند سے کابل اور پشاور تک ریلوے رابطے کی تجویز دی گئی ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس راہداری سے کارگو کی ترسیل کے وقت اور لاگت میں 30 سے 40 فیصد تک کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ روس کی جانب سے تکنیکی معاونت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے انجینئرنگ اور منصوبہ بندی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین سے منسلک کوریڈور اور ٹرانس افغان ریلوے کو حریف کے بجائے تکمیلی راستوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ متعدد روٹس سپلائی چین کی لچک اور خطرات کے نظم میں مدد دیتے ہیں۔ بدلتی جیوپولیٹیکل فضا میں متنوع رابطہ کاری کو معاشی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ پیش رفت بندرگاہی آمدن، ٹرانزٹ فیس، روزگار اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کا امکان رکھتی ہے، جبکہ وسطی ایشیا کے لیے عالمی منڈیوں تک نسبتاً مختصر اور کم لاگت رسائی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق بہتر روابط توانائی تعاون، ٹیکنالوجی تبادلے اور عوامی سطح پر روابط کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔