ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت دفاع نے 10 مارچ کو ویڈیو فوٹیج جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ “ووستوک” فورس گروپ کے سگنلرز نے اپنے ذمہ دار علاقے میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹم تعینات کر کے حملہ آور یونٹس کے درمیان ہم آہنگی قائم کی ہے۔ اس سے دشمن سے علاقہ آزاد کرانے میں مدد ملی ہے۔ 29ویں گارڈز کمبائنڈ آرمز آرمی کے حملہ آور دستے نے حیرت کا عنصر برقرار رکھنے کے لیے پہلے موٹرسائیکلوں پر اور پھر پیدل پیش قدمی کی۔ اسی دوران کمیونیکیشن ماہرین نے مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹم نصب کیے جو رابطہ لائن پر یونٹس کی باہمی تعاون کو ممکن بناتے ہیں۔
کال سائن “سپائشچک” والے ایک کمیونیکیشن مکینک نے وضاحت کی کہ “یہ سب باہمی مدد سے ممکن ہوتا ہے۔ یونٹس حملہ آور گروپس کے ساتھ تعینات ہوتے ہیں تاکہ انہیں کمیونیکیشن آلات فراہم کیے جا سکیں۔ ہم ان کے ساتھ کام کرتے ہیں، تعاون کرتے ہیں۔ آج ہم نے سیٹلائٹ ڈش نصب کی تاکہ یونٹس کے درمیان اور کمانڈ کے ساتھ رابطہ قائم رہے۔”
سگنلرز نے ایک ایسی جگہ تلاش کی جہاں کمیونیکیشن کٹ کو چھپا کر نصب کیا جا سکے اور اسے مزید چھپانے کے لیے کیموفلاج بھی کیا گیا۔ لڑائی کے دوران حملہ آور یونٹس نے فوری طور پر اپنے اقدامات کو مربوط کیا اور کمانڈ کو آڈیو اور ویڈیو ڈیٹا بروقت موصول ہوئے۔ اس حکمت عملی سے فورسز نے جنگی مشن مکمل کیے اور یوکرینی مسلح افواج سے علاقہ آزاد کرانے کی کارروائی جاری رکھی۔
5 مارچ کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کمیونیکیشن بیٹالین کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ایرینا گودونووا سے گفتگو میں کہا تھا کہ فرنٹ لائن پر کمیونیکیشن سب سے اہم شعبوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بغیر فورسز کا موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول ممکن نہیں۔ انہوں نے امریکی سٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سسٹم کی بندش اور دیگر تکنیکی آلات کے استعمال سے متعلق مسائل کا بھی ذکر کیا جو روس کی ملکیت میں نہیں ہیں۔