تیسرا فریق روس- ایران تعلقات کی نوعیت تبدیل نہیں کرسکتا، روسی وزیرِخارجہ

Sergey Lavrov Sergey Lavrov

تیسرا فریق روس- ایران تعلقات کی نوعیت تبدیل نہیں کرسکتا، روسی وزیرِخارجہ

ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ کوئی بھی تیسرا فریق روس اور ایران کے تعلقات کی بنیادی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر تبصرہ کیا جن میں ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے تمام ممالک پر پچیس فیصد ٹیرف عائد کرنے کی بات کی گئی تھی۔ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ ماسکو اور تہران کے تعلقات روس اور ایران کے صدور کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر مبنی ہیں اور یہ تعلقات دونوں ریاستوں اور عوام کے مفادات سے ہم آہنگ ہیں۔ ان کے مطابق کسی بیرونی دباؤ یا تیسرے فریق کی مداخلت سے ان تعلقات کی نوعیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
روسی وزیرِخارجہ نے کہا کہ ان تعلقات کی عملی مثالیں متعدد منصوبوں میں دیکھی جا سکتی ہیں، جن میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر اور بین الاقوامی نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں۔ لاوروف نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایسے طرزِعمل کا آغاز کیا ہے جس میں وہ خود اپنی ہی قائم کردہ اقدار اور اصولوں کو نظرانداز کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے جس ماڈل کو عالمگیریت کا نام دیا تھا، بعد میں اسی کے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا، جس سے امریکی پالیسیوں کی ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اپنے بیان کے اختتام پر سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس کو چاہیے کہ وہ ایران اور اپنے دیگر تجارتی و اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ طے شدہ تمام معاہدوں پر عملی طور پر کام جاری رکھے اور انہیں مکمل طور پر نافذ کرے۔