برطانیہ میں نئے مہاجر کیمپ کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ کے جنوب مشرقی علاقے ایسٹ سسیکس کے قصبے کروبرو میں ہفتے کے اختتام پر ہزاروں افراد نے حکومت کے اس منصوبے کے خلاف مارچ کیا جس کے تحت سابق فوجی کیمپ میں پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کا ارادہ ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ احتجاج مسلسل بارہویں ہفتے منعقد ہوا جس میں مردوں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ برطانوی محکمہ داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ کروبرو کے سابق فوجی تربیتی کیمپ میں پانچ سو تک مرد پناہ گزینوں کو عارضی طور پر رکھا جائے گا۔ یہ اقدام ہوٹلوں میں پناہ گزینوں کی رہائش ختم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ حکومت کے مطابق اس مد میں قومی خزانے پر اربوں پاؤنڈ کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پناہ گزین زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے یہاں قیام کریں گے، جبکہ ان کے کیسز کی جانچ مکمل کی جائے گی۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے سینٹ جارج کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے ستائیس مبینہ پناہ گزین قصبے میں پہنچے، جس کے بعد عوامی تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کئی مظاہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ بڑی تعداد میں غیر دستاویزی مردوں کی موجودگی مقامی کمیونٹی کے لیے سلامتی کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ بعض افراد نے ماضی میں پناہ گزین ہوٹلوں میں پیش آنے والے مبینہ جنسی حملوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے خوف کا اظہار کیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ سابق فوجی تنصیبات کو جدید سہولیات سے آراستہ کر کے فوری طور پر استعمال کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ لیبر پارٹی کے منصوبے کے مطابق دو ہزار انتیس تک ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والے پناہ گزین ہوٹلوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا، جبکہ ملک بھر میں اضافی مقامات پر ہزاروں پناہ گزینوں کو منتقل کیا جائے گا۔
حالیہ مہینوں میں امیگریشن کے معاملے پر برطانیہ بھر میں احتجاج دیکھنے میں آیا ہے، جو یورپ کے دیگر ممالک میں بھی پھیلتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مہاجرین کے بحران کی بنیادی وجوہات مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی ایشیا میں جاری تنازعات، غربت اور سیاسی عدم استحکام ہیں، جنہوں نے لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔