سرحدی جھڑپوں میں گرفتار تین پاکستانی فوجی رہا، افغانستان کا اعلان
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
افغانستان کی حکومت نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں سرحد پار جھڑپوں کے دوران گرفتار کیے گئے تین پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب کی ثالثی میں رہا کر دیا گیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فوجی اہلکار 12 اکتوبر کو ہونے والی جھڑپ کے دوران حراست میں لیے گئے تھے اور اب انہیں سعودی وفد کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق سعودی وفد دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں پیر کے روز کابل پہنچا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ فوجیوں کی رہائی کا فیصلہ رمضان المبارک کی آمد کے احترام میں کیا گیا، جو عبادت، روزے اور روحانی تربیت کا بابرکت مہینہ ہے۔
اکتوبر میں ہونے والی خونریز سرحدی جھڑپوں کے بعد سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان جھڑپوں کے دوران دونوں جانب درجنوں فوجی اہلکار، شہری اور مشتبہ جنگجو ہلاک جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ پُرتشدد واقعات کا سلسلہ نو اکتوبر کو کابل میں ہونے والے دھماکوں کے بعد شروع ہوا، جن کا الزام طالبان حکومت نے پاکستان پر عائد کیا تھا اور ردعمل کا اعلان کیا تھا۔
یہ جھڑپیں حالیہ برسوں میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان شدید ترین تصادم قرار دی گئیں۔ قطر کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں جزوی کمی آئی، تاہم استنبول میں ہونے والے بعد کے امن مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے اور دوطرفہ تعلقات بدستور کشیدہ رہے۔ تین پاکستانی فوجیوں کی رہائی پر پاکستان کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔