ماسکو (صدائے روس)
روستوف آن دون میں واقع روسی فیڈریشن کے یونین آف سینیماٹوگرافرز کے ہاؤس آف سنیما میں ایک یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان “آشوٹز کی آزادی کا دن اور سوویت عوام کی نسل کشی” تھا۔ اس تقریب کا مقصد فاشزم کے ہاتھوں جان سے جانے والے لاکھوں افراد کی یاد کو تازہ کرنا اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران قربانیاں دینے والے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔
تقریب میں ڈان خطے کی 20 سے زائد قومی و ثقافتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی، جب کہ ماسکو، بیلاروس، بوسنیا و ہرزیگووینا اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ممتاز مؤرخین نے آن لائن شرکت کے ذریعے اس اجتماع کو عالمی رنگ دیا۔
روستوف کے علاقائی محبِ وطن تحریک “راہِ عظمت — ہماری تاریخ” کی ہیڈ کوآرڈینیٹر، آسا کمپانیتس نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ کو محفوظ رکھنا آج کے دور کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔
آسا کمپانیتس کے مطابق “ہمیں اتحاد کے ساتھ اپنی تاریخ کی حفاظت کرنی ہوگی۔ سوویت عوام کی بہادری اور قربانیوں کے بارے میں بلند آواز میں بات کرنا ضروری ہے، خاص طور پر نوجوان نسل کے ساتھ۔ انہیں ان موضوعات میں شامل کرنا، مکالمہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس تقریب میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مؤرخین شریک ہیں، آشوٹز کی آزادی کی تاریخی فلم دکھائی جائے گی اور نوجوان اہم تاریخی واقعات سے جڑے گیت پیش کریں گے۔”


اے این او “سینٹر آف میڈیا اسٹریٹیجیز” کے ڈائریکٹر مارک بیکوف نے کہا کہ لینن گراڈ کے محاصرے، آشوٹز کی آزادی اور اسٹالن گراڈ کی جنگ جیسے موضوعات کو ایک ہی تقریب میں یکجا کرنا تاریخی سچائی کے تحفظ کی علامت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آج سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ نئی نسل تک نازی حکومت کی اُس منظم اور دانستہ پالیسی کے ناقابلِ تردید حقائق پہنچائے جائیں، جس کا مقصد عام شہریوں کی مکمل تباہی تھا۔
جنوبی سائنسی مرکز روسی اکیڈمی آف سائنسز کے نائب ڈائریکٹر برائے سائنسی امور، یوجینی کرینکو نے کہا کہ تقریب کے شرکاء نے ان تاریخی واقعات کو یاد کیا جو آج سے 80 برس سے زائد عرصہ قبل پیش آئے تھے۔
یوجینی کرینکو نے بتایا کہ سوویت افواج نے پولینڈ کے شہر اوسویچم کے قریب قائم نازی حراستی کیمپ آشوٹز-بیرکیناؤ کو آزاد کرایا، جہاں آزادی کے وقت چند ہزار قیدی زندہ بچے تھے، حالانکہ اس کیمپ سے لاکھوں افراد گزرے، جن میں مختلف ممالک کے شہریوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں سوویت یونین کے باشندے بھی شامل تھے۔
کرینکو نے مزید کہا کہ دوسرا اہم واقعہ لینن گراڈ کے محاصرے کے مکمل خاتمے کا دن ہے۔ اگرچہ لینن گراڈ اور پولینڈ میں قائم حراستی کیمپ بظاہر مختلف مقامات ہیں، لیکن دونوں میں نازی پالیسی کی ایک ہی سفاک حقیقت جھلکتی ہے۔ صرف سوویت یونین کی سرزمین پر پانچ سو سے زائد ایسے کیمپ قائم کیے گئے تھے، جن میں سے کئی کا مقصد براہِ راست عام شہریوں کا خاتمہ تھا۔
لینن گراڈ میں بھی محاصرے کے دوران ہزاروں افراد بھوک، سردی اور بیماریوں سے جان کی بازی ہار گئے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2 فروری 1943 کو اسٹالن گراڈ کی فیصلہ کن جنگ اختتام پذیر ہوئی، جو ریڈ آرمی کی عظیم ترین فتح سمجھی جاتی ہے۔“اگر اسٹالن گراڈ میں فتح نہ ہوتی تو نہ لینن گراڈ کا محاصرہ ٹوٹتا، نہ ہی آشوٹز کو آزاد کرایا جا سکتا تھا۔ یہ تینوں واقعات عظیم محبِ وطن جنگ کی سخت تاریخی منطق کے تحت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ہماری اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہیں گے،”
کرینکو نے کہا روستوف ریجن میں اسمبلی آف پیپلز آف رشیا کے علاقائی سربراہ، ولادیمیر نیکراسوف نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات نوجوان نسل کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
ان کے مطابق، نوجوانوں کو یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ کثیر القومی سوویت یونین کے تمام عوام نے مل کر نازی جرمن جارحیت کے خلاف جدوجہد کی اور ہر قوم نے عظیم فتح میں اپنا حصہ ڈالا۔
اس یادگاری تقریب کا اہتمام روستوف کے علاقائی محبِ وطن عوامی تحریک “راہِ عظمت — ہماری تاریخ”، اے این او “سینٹر آف میڈیا اسٹریٹیجیز” اور روسی فیڈریشن کے یونین آف سینیماٹوگرافرز کے ہاؤس آف سنیما نے مشترکہ طور پر کیا۔