ٹرمپ نے پوتن سے گفتگو میں یوکرین میں جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا، کریملن

Putin Trump Putin Trump

ماسکو (صداۓ روس)

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے 10 مارچ کو واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں یوکرین میں فوری جنگ بندی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ پیسکوف نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ “نہیں، ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی؛ یہ معاملہ بارہا زیر بحث آ چکا ہے۔” انہوں نے روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے فوری جنگ بندی میں دلچسپی کا اظہار ایک نئی شرط نہیں بلکہ پہلے سے چلی آ رہی پوزیشن کا اعادہ ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح بات چیت ہو چکی ہے اور ان کی تفصیلات سب کو معلوم ہیں۔ پوتن کا اس معاملے پر مستقل موقف بھی سب کے سامنے ہے۔ پیسکوف نے زور دیا کہ تمام فریق بالآخر جلد از جلد جنگ بندی چاہتے ہیں۔
اس سے قبل یوری اوشاکوف نے بتایا تھا کہ پوتن اور ٹرمپ کی گفتگو کا مرکزی موضوع ایران کے گرد صورتحال اور یوکرین تنازع کے حل کے لیے ماسکو، واشنگٹن اور کیئف کے درمیان جاری مذاکرات تھے۔
امریکی صدر نے بعد میں پریس کانفرنس میں اس کال کو “مثبت” قرار دیا اور کہا کہ روسی صدر نے مشرق وسطیٰ میں تنازع حل کرنے میں مدد کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔