روس کے ایران کی مدد سے متعلق سوال پر ٹرمپ برہم، “بیوقوفانہ سوال” قرار دے دیا

Trump Trump

روس کے ایران کی مدد سے متعلق سوال پر ٹرمپ برہم، “بیوقوفانہ سوال” قرار دے دیا

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی جانب سے ایران کو ممکنہ انٹیلی جنس مدد فراہم کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے “بیوقوفانہ سوال” قرار دے دیا۔ یہ واقعہ White House میں کالج اسپورٹس سے متعلق ایک راؤنڈ ٹیبل اجلاس کے اختتام پر پیش آیا۔ اجلاس کے آخر میں ٹرمپ نے سوالات لینے کا اعلان کیا اور Fox News کے رپورٹر Peter Doocy کو سوال کرنے کا موقع دیا۔ ڈوسی نے The Washington Post اور فاکس نیوز کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا Russia ایران کو امریکی اہداف پر حملوں کے لیے معلومات فراہم کر رہا ہے۔ سوال سنتے ہی ٹرمپ نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ “ان معاملات کے مقابلے میں آسان ہے جن پر ہم یہاں بات کر رہے ہیں”، اور انہوں نے حاضرین کے قہقہوں کے بعد صحافی کو ڈانٹتے ہوئے کہا میں آپ کا احترام کرتا ہوں، آپ ہمیشہ میرے ساتھ اچھے رہے ہیں، لیکن یہ اس وقت پوچھنے کے لیے کتنا بیوقوفانہ سوال ہے۔ ہم یہاں کسی اور موضوع پر بات کر رہے ہیں۔

بعد میں ٹرمپ نے ڈوسی کو دوبارہ سوال کرنے کا موقع دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اور سوال پوچھ سکتے ہیں، لیکن جب صحافی نے عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کرنے کی کوشش کی تو ٹرمپ نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ اسی دوران Associated Press نے رپورٹ کیا کہ امریکی انٹیلی جنس سے واقف دو حکام کے مطابق روس نے ایران کو ایسی معلومات فراہم کی ہیں جو خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں، طیاروں اور دیگر اثاثوں کو نشانہ بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

تاہم ٹرمپ نے اس دعوے پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے صرف ایران میں جاری کارروائیوں کے بارے میں کہا اگر اسے صفر سے دس تک اسکور دینا ہو تو میں اسے 12 سے 15 دوں گا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد سے صحافیوں کے سوالات سے زیادہ تر گریز کیا ہے۔ ایک موقع پر وہ اپنے فلوریڈا کے ریزورٹ Mar-a-Lago سے واشنگٹن واپس آنے کے بعد میڈیا کے سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں نصب مجسموں کو دیکھنے میں مصروف رہے، جن میں Benjamin Franklin اور Thomas Jefferson کے مجسمے شامل تھے۔