ٹرمپ کی بھارت کو غزہ ’امن بورڈ‘ میں شمولیت کی دعوت
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے غزہ کی نگرانی، حکمرانی اور انتظام کے لیے قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ یہ دعوت وزیراعظم نریندر مودی کو ایک باضابطہ خط کے ذریعے دی گئی ہے، جسے بھارت میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔ گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے غزہ کے لیے امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کیا تھا، جس کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ قائم کیا گیا۔ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں مؤثر حکمرانی کے ذریعے استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ امریکی سفیر کے مطابق یہ واضح نہیں کہ کتنے ممالک کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق کم از کم ایک درجن ممالک، جن میں پاکستان اور ترکیہ بھی شامل ہیں، کو مدعو کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ رکن ممالک کی حتمی فہرست آئندہ دنوں میں جاری کی جائے گی، ممکنہ طور پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر۔
اس بورڈ کی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر بانی ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق بورڈ کے چارٹر میں یہ شرط شامل ہے کہ تین سال کی مدت کے بعد رکنیت برقرار رکھنے کے لیے ہر ملک کو کم از کم ایک ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ بورڈ کو اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے دوران غزہ کی منتقلی کے عمل کی نگرانی سونپی جائے گی، جس میں بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی، حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو کو ترجیح دی جائے گی۔ دوسری جانب اسرائیل نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے اعلان کردہ ایگزیکٹو کمیٹی پر اعتراض کیا ہے، اسرائیلی مؤقف کے مطابق یہ اقدام اس سے مشاورت کے بغیر کیا گیا اور اسرائیلی پالیسی کے منافی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہنگری نے اس تجویز کو قبول کر لیا ہے، جبکہ اٹلی اور کینیڈا نے محتاط حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ روس اور چین نے نومبر 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت میں منظور ہونے والی قرارداد پر ووٹنگ سے گریز کیا تھا۔