ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی انتخابی مہم نے الزام لگایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برازیل کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کر کے ملک کو نوآبادی بنانا اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ میٹا نے 4 اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے سے چند روز قبل لولا کی مہم کا فیس بک پر اشتہاری اکاؤنٹ بلاک کر دیا۔ اس انتخاب میں بائیں بازو کے موجودہ صدر لولا چوتھی مدت کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں، جبکہ ان کے اہم حریف دائیں بازو کے سینیٹر فلیویو بولسونارو ہیں۔ حالیہ سروے دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نشر ہونے والے ایک منٹ کے ٹیلی ویژن اشتہار میں لولا کی مہم نے ٹرمپ پر برازیل کے انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا۔ اس ویڈیو میں امریکی مالی اعانت سے چلنے والی سیاسی اشتہارات، امریکی ٹیک کمپنیوں کی مبینہ شمولیت اور انٹیلیجنس انتباہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ امریکی مداخلت کا خطرہ “نازک سطح” پر پہنچ گیا ہے۔
اشتہار میں کہا گیا کہ فلیویو بولسونارو ٹرمپ کے امیدوار ہیں، اور ٹرمپ برازیل کو نوآبادی بنانا، اس کی دولت لینا اور اس کا مستقبل چھیننا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے فلیویو کے والد، سابق صدر جائر بولسونارو کی ان کے مقدمے کے دوران شدید حمایت کی تھی۔ اشتہار میں برازیل کی انٹیلیجنس ایجنسی کے ایک خفیہ جائزے کا حوالہ دیا گیا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ برازیل پر امریکی دباؤ بڑھ رہا ہے اور انتخابات میں بیرونی مداخلت کا خطرہ “نازک سطح” پر پہنچ گیا ہے۔ لولا نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بولسونارو ہمارے قدرتی وسائل امریکا کے حوالے کرنا چاہتے ہیں، اور اگر ان کی مرضی چلے تو برازیل دوبارہ نوآبادی بن جائے گا۔
مہم کی ویڈیو میں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ فلیویو کی مہم اور امریکی سیاسی مفادات کے درمیان براہ راست روابط ہیں، اور راک برج نیٹ ورک کا ذکر کیا گیا، جو ایک خفیہ امریکی ڈونر نیٹ ورک ہے جسے نائب صدر جے ڈی وینس نے 2019 میں قائم کیا تھا۔ برازیلی میڈیا کے مطابق راک برج کے برازیل میں مبینہ منتظم پیڈرو سانگ نے ساؤ پالو میں بولسونارو کے انتخابی ہیڈ کوارٹر کے قیام میں مدد کی تھی۔ لولا کی ورکرز پارٹی نے برازیل کی سپریم کورٹ سے ممکنہ غیر ملکی مالی اعانت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جو برازیلی انتخابی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ دریں اثنا میٹا نے لولا کی مہم کا فیس بک پر اشتہاری اکاؤنٹ بھی بلاک کر دیا ہے، جس سے انتخابات سے چند روز قبل نئے اشتہارات چلانے سے روک دیا گیا۔ مہم کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیک کمپنی نے اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور اس نے رسائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔