گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ برقرار، ٹرمپ کے قریبی مشیر کا الحاق پر اصرار
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب چیف آف اسٹاف برائے پالیسی اسٹیفن ملر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ ہونا چاہیے اور اسے واشنگٹن کی “باضابطہ پوزیشن” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک امریکا کو ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کے الحاق سے نہیں روک سکتا۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بھی گرین لینڈ پر قبضے کی تجویز دی تھی، جسے قومی سلامتی کے تقاضوں سے جوڑا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسٹیفن ملر کی اہلیہ اور سابق ٹرمپ اہلکار کیٹی ملر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گرین لینڈ کا نقشہ امریکی پرچم کے رنگوں میں شائع کرتے ہوئے اس پر “جلد” کا لفظ درج کیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکا کی جانب سے وینزویلا میں فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے بھی یہ بیان دیا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی “اشد ضرورت” ہے۔
سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیفن ملر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کئی ماہ سے واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کو مجموعی سیکیورٹی نظام کے تحت گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل ہونا چاہیے، اور یہ مؤقف موجودہ انتظامیہ کے آغاز سے ہی امریکی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ جب ان سے ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم دعویٰ کیا کہ “گرین لینڈ کے مستقبل پر کوئی بھی امریکا کے خلاف فوجی تصادم کی ہمت نہیں کرے گا”۔
ملر نے ڈنمارک کے گرین لینڈ پر دعوے کو بھی چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا، بطور نیٹو کی سب سے بڑی طاقت، آرکٹک خطے کی سلامتی یقینی بنانا چاہتا ہے تو “ظاہر ہے کہ گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ ہونا چاہیے”۔
دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے امریکی دعووں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈریکسن نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے “تاریخی طور پر قریبی اتحادی” کو دھمکیاں دینا بند کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش کی تو یہ نیٹو اتحاد کے عملی خاتمے کے مترادف ہوگا۔
ڈنمارک کے نشریاتی ادارے TV2 سے بات کرتے ہوئے میٹے فریڈریکسن نے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، تاہم اگر امریکا نے کسی نیٹو رکن ملک پر فوجی حملہ کیا تو نیٹو سمیت دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا سلامتی کا پورا نظام متاثر ہوگا۔
گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینز فریڈریک نیلسن نے بھی ٹرمپ کے بیانات کو “توہین آمیز” اور “ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب امریکی صدر یہ کہتے ہیں کہ “ہمیں گرین لینڈ چاہیے” اور اسے وینزویلا یا فوجی مداخلت سے جوڑتے ہیں تو یہ نہ صرف غلط بلکہ بے احترامی بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کوئی شے نہیں جسے عالمی طاقتوں کی بیان بازی کا موضوع بنایا جائے، اور الحاق کے خیالات کو یکسر مسترد کیا جانا چاہیے۔