ترکمانستان نے دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) کی صدارت سنبھال لی

CIS CIS

ترکمانستان نے دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) کی صدارت سنبھال لی

اشقبات(صداۓ روس)
ترکمانستان نے باضابطہ طور پر دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) کی صدارت سنبھال لی ہے۔ ترکمان صدر سردار بردی محمدوف نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک تنظیم کی صلاحیتوں کے زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔ ان کے مطابق سی آئی ایس کی صدارت ترکمانستان کے لیے تمام رکن ممالک کی جانب سے اعتماد اور احترام کا مظہر ہے اور یہ تنظیم کی ترقی میں ترکمانستان کے کردار کے اعتراف کا ثبوت بھی ہے۔

صدر بردی محمدوف نے واضح کیا کہ ترکمانستان سی آئی ایس کی صدارت کے دوران ایک جامع تصور (کانسیپٹ) تیار کرے گا، جس میں بین الریاستی تعاون کے مستقبل سے متعلق ترکمان نقطۂ نظر اور ترجیحات کی عکاسی کی جائے گی، جبکہ ان ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا جنہیں ترکمانستان فوری اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔ تاہم اس تصور کی تفصیلات تاحال شائع نہیں کی گئیں۔

Advertisement

روسی اکیڈمی آف سائنسز کے ادارہ برائے عالمی معیشت و بین الاقوامی تعلقات میں وسطی ایشیا کے شعبے کے سربراہ اسٹینسلاو پریچن نے تاس کو بتایا کہ ترکمانستان کی صدارت اس لحاظ سے دلچسپ ہوگی کہ وہ سی آئی ایس اور وسطی ایشیا میں سی آئی ایس کے کردار کو کس طرح دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق نئی جغرافیائی اور سیاسی حقیقتوں کے تناظر میں ترکمانستان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ تنظیم کو فعال بنانے کے لیے نئی تجاویز اور اقدامات پیش کرے گا۔

ترکمانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹی ڈی ایچ کے مطابق ترکمانستان سی آئی ایس کے اندر ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور امن کے مرکز کے طور پر اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ملک تنظیم کے دائرہ کار میں معاشی تعاون کو مضبوط بنانے، بالخصوص ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے میں پیش رفت کا حامی ہے۔ بین الاقوامی ٹرانسپورٹ راہداریوں کے قیام سے متعلق ترکمانستان کی تجاویز کو سی آئی ایس کے شراکت دار ممالک کی حمایت حاصل رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ترکمانستان کی صدارت اس امر کی علامت ہے کہ اشک آباد سی آئی ایس کو ایک مؤثر اور اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہے، جو بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں ترکمان نمائندوں کی تنظیمی سرگرمیوں میں شمولیت نسبتاً محدود رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ترکمانستان تعاون کے فریم ورک کے تحت توانائی سفارتکاری اور ماحولیاتی سلامتی کو بھی مستقل طور پر فروغ دیتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی اور ثقافتی مکالمہ بھی سی آئی ایس کے اندر شراکت داری کا اہم پہلو ہے۔ ترکمانستان باقاعدگی سے سی آئی ایس کے بڑے ثقافتی اور کھیلوں کے پروگراموں کی میزبانی کرتا رہا ہے اور اقوام کے درمیان دوستی اور روحانی اقدار کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکمانستان کی متوازن اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی اس کی صدارت پر مثبت اثر ڈالے گی۔ اسٹینسلاو پریچن کے مطابق ترکمانستان نہ صرف غیر جانبداری پر عمل پیرا ہے بلکہ اسے عالمی سرگرمیوں میں ایک مؤثر سفارتی بنیاد کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس رائے سے سی آئی ایس کے سیکریٹری جنرل سرگئی لیبدیف بھی متفق ہیں، جنہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ترکمانستان کی غیر جانبدار پالیسی دولتِ مشترکہ کے اندر اہداف کے کامیاب نفاذ میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ترکمانستان 1991 سے سی آئی ایس کا رکن ہے، تاہم 26 اگست 2005 کو قازان میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں ترکمان صدر کی درخواست پر ملک کو تنظیم میں خصوصی حیثیت کے ساتھ ایسوسی ایٹ رکن تسلیم کیا گیا۔ اس حیثیت کے تحت ترکمانستان صرف مخصوص شعبوں میں تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے۔ 12 دسمبر 1995 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ترکمانستان کی مستقل غیر جانبداری سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی، جس کی 2015 میں دوبارہ توثیق کی گئی۔ 2025 میں ترکمانستان نے اپنی غیر جانبداری کے تیس سال مکمل ہونے کا جشن منایا، جبکہ 21 مارچ 2025 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بار پھر ترکمانستان کی مستقل غیر جانبداری سے متعلق قرارداد منظور کی۔