امریکا کی دو تہائی آبادی شدید برفانی طوفان کی زد میں، 17 ریاستوں میں ایمرجنسی
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا کی تقریباً دو تہائی آبادی اس وقت شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث ٹیکساس، جارجیا، آرکنساس، شمالی اور جنوبی کیرولینا سمیت 17 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ نیشنل ویدر سروس نے صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹیکساس، جارجیا، آرکنساس، نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، فلاڈیلفیا اور بالٹی مور میں شدید برفباری اور یخ بستہ ہواؤں نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ متعدد علاقوں میں سڑکیں بند ہو چکی ہیں جبکہ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شدید موسمی صورتحال کے باعث امریکا بھر میں فضائی اور زمینی سفر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کئی بین الاقوامی اور اندرونِ ملک پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ ریل اور بس سروس بھی تعطل کا شکار ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید سردی کے باعث ہائپوتھرمیا اور فراسٹ بائٹ جیسے جان لیوا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک کی مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ ہنگامی خدمات کو الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ شیلٹر ہومز اور ہیٹنگ سینٹرز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان آئندہ چند دنوں تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث مزید برفباری، شدید سردی اور تیز ہواؤں کا خدشہ ہے۔