برطانیہ کا دوہرا میعار، چھپ چھپ کر روسی تیل کی درآمد جاری

UK UK

برطانیہ کا دوہرا میعار، چھپ چھپ کر روسی تیل کی درآمد جاری

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی جریدے پولیٹیکو کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ درحقیقت روسی تیل پر عائد اپنی ہی پابندیوں کو ایک قانونی سقم کے ذریعے نظرانداز کر رہا ہے اور تیسرے ممالک میں ریفائن کیے گئے ایندھن کی صورت میں پابندیوں کی زد میں آنے والا روسی تیل بڑی مقدار میں درآمد کر رہا ہے۔ فروری دو ہزار بائیس میں یوکرین تنازع میں شدت کے بعد برطانوی حکام نے روسی خام تیل اور تیل سے بنی مصنوعات کی درآمد، سمندری ترسیل، انشورنس اور مالی معاونت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے علاوہ روسی تیل کمپنیوں، جن میں روسنیفٹ اور لوک آئل شامل ہیں، کے اثاثے منجمد کیے گئے اور جی سیون کے روسی تیل پر قیمت کی حد مقرر کرنے کے فیصلے میں بھی برطانیہ نے شمولیت اختیار کی۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے روسی توانائی کے شعبے پر عائد کی جانے والی ’’بے مثال‘‘ پابندیوں کے باوجود روس کی توانائی آمدنی پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑا۔

تاہم سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کی ایک حالیہ رپورٹ، جس کا حوالہ پولیٹیکو نے دیا، کے مطابق برطانیہ نے دو ہزار بائیس سے لے کر دو ہزار پچیس کے اختتام تک بھارت اور ترکی میں ریفائن کیے گئے جیٹ فیول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات تقریباً چار ارب پاؤنڈ مالیت میں درآمد کیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک اعشاریہ چھ ارب پاؤنڈ مالیت کی مصنوعات روسی تیل سے تیار کی گئی تھیں۔

Advertisement

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور ترکی، جو چین کے ساتھ مل کر مغربی پابندیوں کے بعد روسی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، پابندیوں کی زد میں آنے والے روسی خام تیل کو جیٹ فیول اور ڈیزل میں تبدیل کر کے دنیا بھر کے ممالک کو دوبارہ فروخت کر رہے ہیں۔ سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے تجزیہ کار آئزک لیوی کے مطابق برطانیہ میں داخل ہونے والی تقریباً ہر چھ میں سے ایک جیٹ فیول شپمنٹ ایسے ریفائنری پلانٹس سے آتی ہے جو روسی خام تیل پر چل رہے ہیں۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ ریفائن شدہ ایندھن پر پابندیوں کا نفاذ مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ایک بار تیل ریفائن ہو جائے تو اس کے اصل ماخذ کا سراغ لگانا ممکن نہیں رہتا۔ شیل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بین فان بیورڈن نے بھی دو ہزار بائیس میں کہا تھا کہ ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو اس بات کا تعین کر سکے کہ ریفائن شدہ مصنوعات روسی تیل سے بنی ہیں یا نہیں۔

ادھر اسی ماہ کے آغاز میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ دو ہزار چھبیس میں بھی روس کی توانائی آمدنی کو محدود کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی، جن میں تیل کے تاجروں اور اس نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کو نشانہ بنانا شامل ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ روسی تیل کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔