برطانیہ نے فرانس اور اٹلی کی روس سے سفارتی روابط بحال کرنے کی تجویز مسترد کردی
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانوی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے فرانس اور اٹلی کی جانب سے روس کے ساتھ سفارتی روابط بحال کرنے کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ ایک غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ کسی بھی قسم کی سفارتی بحالی پر غور اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس بات کے واضح شواہد موجود نہ ہوں کہ ماسکو واقعی امن چاہتا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں انہیں روس کی جانب سے امن کی سنجیدہ خواہش نظر نہیں آ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی اتحادیوں کو روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جس میں یوکرین کو فوجی مدد فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ اخبار کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برسلز میں اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ اگر واشنگٹن نے ماسکو کے ساتھ مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں قیادت سنبھال لی تو یورپی یونین کو پس منظر میں دھکیلا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ماسکو لندن پر زور دیتا ہے کہ وہ عالمی کشیدگی کو ہوا دینے کی پالیسی ترک کرے اور باہمی احترام پر مبنی بین الریاستی مکالمے کی طرف واپس آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے، جس کی تشکیل میں لندن نے نازی ازم کو شکست دینے والی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر اہم کردار ادا کیا تھا۔
ماریا زاخارووا نے مزید کہا کہ برطانوی سیاسی حکمتِ عملی ساز موجودہ خصوصی فوجی آپریشن میں روس کی کامیابیوں کو قبول کرنے سے قاصر ہیں اور بظاہر وہ اس تنازع کو زیادہ سے زیادہ طول دینا چاہتے ہیں تاکہ روس کو طویل مدت تک کمزور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق برطانوی قیادت کی یہ پالیسی نہ صرف نقصان دہ اور قلیل النظر ہے بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں برطانیہ کی ساکھ کو عدم استحکام اور تنازعات کو بھڑکانے والے ملک کے طور پر بھی مضبوط کرتی ہے، جو نوآبادیاتی اور سامراجی ماضی کی یاد دلاتی ہے۔