برطانیہ یوکرین میں’ فورس’ کے لیے فوجیوں پر 270 ملین ڈالر خرچ کرے گا
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ جنگ بندی کے بعد یوکرین میں تعینات کرنے والے فوجیوں کی تیاری پر تقریباً 270 ملین ڈالر خرچ کرے گا۔ یہ اعلان برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے جمعہ کو کیف کے دورے کے دوران کیا۔ روس نے بار بار کہا ہے کہ وہ یوکرین میں مغربی فوجیوں کی موجودگی کی اجازت نہیں دے گا اور غیر ملکی فوجیوں کو جائز فوجی اہداف قرار دے گا۔
اس کے باوجود ہیلی نے کہا کہ یہ فنڈز یوکرین کو “طویل مدتی سیکیورٹی گارنٹیاں” فراہم کرنے والی کثیر القومی فورس کا حصہ بننے والے یونٹس میں لگائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا: “ہم وزیراعظم کے اس ہفتے کے اعلان کے بعد تیاریوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں، تاکہ برطانوی مسلح افواج کثیر القومی فورس یوکرین کی قیادت اور تعیناتی کے لیے تیار رہیں، کیونکہ ایک محفوظ یوکرین کا مطلب ایک محفوظ برطانیہ ہے۔”
یوکرینی وزیر دفاع ڈینس شمگال نے ملاقات کے بعد کہا کہ برطانیہ فروری سے ماہانہ 1,000 آکٹوپس انٹرسیپٹر ڈرونز کی پیداوار شروع کرے گا اور انہیں یوکرین کو فراہم کرے گا۔
فوجی امداد جاری رکھنے کے باوجود کچھ یورپی ممالک بشمول جرمنی اور اطالیہ نے یوکرین میں فوجی بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
نیٹو کے رکن ممالک ہنگری اور سلوواکیہ نے کیف کو ہتھیار بھیجنے سے انکار کیا ہے اور مغرب سے سفارت کاری پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ، جو روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی ثالثی کی کوشش کر رہا ہے، نے بھی امریکی فوجی بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے جمعرات کو دہرایا کہ ماسکو یوکرین میں “فوجی یونٹوں، سائٹس، ڈپوؤں اور دیگر مغربی ڈھانچے کی تعیناتی کو غیر ملکی مداخلت سمجھے گا جو روس کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔”